9 ہزار سے زائد زخمی ، ہلاکتوںمیں مزید اضافے کا خدشہ ہے

ہرات: افغانستان کے صوبے ہرات میں تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ نو ہزار سے زائد افراد زخمی بھی ہیں،جن میںکئی ایک شدید زخمی ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔
افغان حکام کے مطابق زلزلے سے سب سے زیادہ نقصانات جنوبی صوبہ ہرات میں ہوئے ہیں۔ جبکہ دیگر دور افتادہ علاقوں میں بھی نقصانات کی رپورٹ آرہی ہیں۔
ہرات کے صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے سربراہ موسی اشعری نے میڈیا کو بتایا کہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
زلزلوں کے باعث ہرات شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا فوٹو: یونیسیف افغانستان ایکس
گزشتہ روز افغانستان میں آنے والے خوفناک زلزلے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ 9 ہزار سے زیادہ شہری زخمی بھی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی خبر کے مطابق طالبان انتظامیہ نے اپنے بیان میں طاقتور زلزلے میں جاں بحق اور زخمی شہریوں کی تعداد سے متعلق آگاہ کیا جب کہ یہ ملکی تاریخ کے مہلک ترین زلزلوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے کہا کہ ہرات شہر کے شمال مغرب میں 35 کلومیٹر (20 میل) دور زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جن میں سے ایک کی شدت 6.3 تھی۔
وزارت آفات کے ترجمان ملا جانان صئیق نے بتایا کہ 2 ہزار 53 افراد جاں بحق اور 9 ہزار 240 زخمی ہوئے جب کہ ایک ہزار 329 مکانات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئے ہیں۔
ہرات کے محکمہ صحت کے ایک عہدیدار ڈاکٹر دانش نے بتایا کہ 200 سے زائد جاں بحق شہریوں کو مختلف ہسپتالوں میں لایا گیا، ان میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔ڈاکٹر دانش نے کہا کہ میتوں کو فوجی اڈوں، ہسپتالوں سمیت کئی مقامات پر منتقل کیا گیا۔ زلزلے کے باعث ہرات شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگ اپنے گھروں سے باہر سڑکوں پر آگئے ہیں۔شہر میں زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
ہرات شہر، ایران کے ساتھ لگنے والی صوبے کی سرحد سے 120 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے جب کہ یہ شہر افغانستان کا ثقافتی دارالحکومت سمجھا جاتا ہے۔یہ صوبہ ہرات کا دارالحکومت ہے، 2019 کے عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق اس کی آبادی کا تخمینہ 19 لاکھ ہے۔
افغانستان میں دہائی کی جنگ کے بعد گزشتہ دو برس سے کسی حد تک امن بحال ہوگیا ہے لیکن بحرانی کیفیت برقرار ہے اور 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے اور غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بیرونی امداد بھی کم ہوگئی ہے۔
پاکستان کی تعاون کی پیشکش
دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، افغانستان کے مغربی علاقوں میں تباہ کن زلزلے سے شدید غمزدہ ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانوں اور املاک کا نقصان ہوا۔دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا ہے کہ ہم ان لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا، ترجمان نے زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں افغانستان میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بحالی کی کوششوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انہیں افغانستان میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے بارے میں جان کر بہت دکھ ہوا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ دلی تعزیت سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہے، میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کرتا ہوں۔
امریکا کے جیولوجیکل سروے کے مطابق گزشتہ روز افغانستان میں زلزلہ آیا تھا جس کا مرکز ہرات کے شمال مغرب میں 40 کلومیٹر دور تھا اور اس کے فوری بعد 5.5، 4.7 اور 6.2 کی شدت کے تین آفٹر شاکس بھی آئے۔




