فلسطینیوں کے حق میں کئے جانے والے مظاہروں کا مقصد اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہے یہ ہیٹ مارچ ہیں
فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے پر لیبر پارٹی نے سینئر رکن پارلیمنٹ اینڈی میک ڈونلڈ کی رکنیت معطل کر دی۔،غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے پر برطانوی وزیر برخاست
اسلام آباد(محمدرضوان ملک) امریکہ کے بعد برطانوی حکومت بھی اپنے عوام کی امنگوں کے برعکس فلسطین، اسرائیل تنازعے میں اسرائیل کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئی ہے۔ برطانوی وزیرداخلہ سویلا بریورمیننے برطانوی عوام کی جانب سے فلسطینیوں کے حق میں کئے جانے والے مارچ کو ہیٹ مارچ کا نام دے دیا ہے۔ ایک بیان میںان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرہ کرنے والوں کا مقصد اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہے، میری نظر میں یہ ہیٹ مارچ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس یہود مخالف سرگرمیوں پر نرمی کا مظاہرہ نہ کرے۔
دوسری طرف غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے پر برطانیہ میں کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ پال بریسٹو کو کابینہ سے نکال دیا گیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق پال بریسٹو نے وزیراعظم رشی سونک کو خط میں غزہ میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔
فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے پر لیبر پارٹی نے بھی اپنے رکن پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سینئر رکن پارلیمنٹ اینڈی میک ڈونلڈ کی رکنیت معطل کر دی۔
واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری جاری ہے، رہائشی علاقوں میں کی گئی بمباری سے دو لاکھ مکانات مکمل اور جزوی طور پر تباہ ہوچکے ہیں جبکہ اسرائیلی بمباری سے 7 اکتوبر سے اب تک غزہ کے شہدا کی تعداد 8 ہزار 300 سے زیادہ ہوگئی ہے۔
وزیرِ داخلہ کے بیان پر اراکین پارلیمنٹ اور مختلف تنظیموں نے شدید تنقید کی ہے۔سعیدہ وارثی نے کہا کہ برطانوی وزیر داخلہ کمیونٹیز میں تقسیم کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیر داخلہ اپنے بیانات سے کمیونٹیز کے درمیان صرف نفرت پیدا کر رہی ہیں۔
دوسری جانب رکن پارلیمنٹ افضل خان کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیر داخلہ کی جانب سے فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں کو ہیٹ مارچ قرار دینا انتہائی خطرناک ہے۔
سربراہ اسکاٹش لیبر پارٹی انس سرور نے کہا کہ برطانوی وزیر داخلہ کا بیان کمیونٹیز کے درمیان تنائو کو ہوا دینے کا باعث ہوگا۔
دوسری طرف عالمی بنک نے بھی خبردار کیا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا خدشہ ہے۔


