
امریکی شہری سنتھیا رچی کے معاملے پر امریکی سفارتخانے کا ردعمل سامنے آگیا ہے ۔ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سفارت خانہ پاکستان میں ذاتی حیثیت میں مقیم بعض امریکیوں کے معاملات پرتبصرہ نہیں کرسکتا۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی سفارتخانہ پاکستان میں تمام امریکیوں کو مناسب خدمات اور سپورٹ فراہم کرتا ہے۔یا د رہے کہ پاکستان میں مقیم امریکی شہری سنتھیا رچی نے پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت پر الزامات لگائے ہیں۔
ایک ویڈیو بیان میں سنتھیا رچی نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک پر زیادتی کرنے کا الزام لگا دیا ہے۔ سنتھیا رچی نے الزام لگایا کہ رحمن ملک نے انہیں 2011 میں زیادتی کا نشانہ بنایا جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور رحمن ملک وزیرِ داخلہ کے عہدے پر فائز تھے۔
امریکی شہری نے سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وزیرِ صحت مخدوم شہاب الدین پر بھی دست درازی کا الزام عائد کیا ہے۔
سنتھیا رچی نے کہا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے ان سے تب دست درازی کی جب وہ ایوانِ صدر میں مقیم تھے۔
سابق وزیرِ اعظم یوسف رضاگیلانی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی خاتون کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے پارٹی فیصلہ کرے گی۔
پیپلز پارٹی نے امریکی خاتون کے خلاف عدالت میں درخواست جمع کرادی ہے جس کے جواب میں جسٹس آف پیس میں خاتون کو 9 جون کو طلب کرلیا گیا ہے۔جبکہ سنتھیارچی نے کہا ہے کہ وہ عدالت میں تحقیقات کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔
سینیٹر رحمان ملک نے بھی امریکی خاتون کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے ہودہ قرار دیا ہے۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کا نام ای سی ایل میںڈالا جائے۔



