پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی آس لگائے عوام کو حکومت نے ٹھینگا دکھا دیا

ایل پی جی اور مٹی کے تیل کی قیمت میںمعمولی کمی سے عوام کو لالی پاپ دینے کی ناکام کوشش
الٹا گیس کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ کرکے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے منتظر عوام کی کمر ہی توڑ دی

اسلام آباد(رپورٹ:محمد رضوان ملک) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں کمی کے حوالے سے غربت کی ماری عوام کی آس بھر نہ آئی حکومت نے آئندہ 15 روز کے لئے پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ قبل ازیں ڈالر کی قیمت میں کمی اور عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد اس بات کی توقع کی جارہی تھی کہ موجودہ حکومت عوام کو ریلیف دے گی ۔لیکن حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کر کے عوام کی امنگوں کا خون کر دیا۔
امید دلا کر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کی بلکہ اچھی خبر کے منتظر عوام پر گیس بم گرادیا ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تو نہ ہو سکی البتہ گیس کی قیمت میں کئی سو گنا اضافہ کر کے حکومت نے کمی ہی توڑ دی ۔
رات گئے حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا
پٹرول کی فی لیٹر قیمت 283 روہے 38 پیسے برقرار، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لٹر قیمت 303 روپے 18 پیسے برقرار ہے۔ جبکہ مٹی کے تیل کی فی لٹر قیمت میں 3 روپے 82 پیسے کی کمی کی گئی ،لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 3 روپے 40 پیسے کی کمی گئی۔
دوسری طرف گھریلو صارفین کیلیے بری خبر یہ ہے کہ ،وفاقی حکومت نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی، نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر سے ہو گا۔ پروٹیکٹڈ صارفین کیلیے فکس چارجز 10 روپے سے بڑھا کر 400 روپے کردیئے گئے ہیں،پیٹرولیم ڈویژن نے گیس کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق اعلامیہ جاری کر دیا ہے ۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ماہانہ 25 سے 90 مکعب میٹر تک گیس کے پروٹیکٹڈ صارفین کیلیے قیمت نہیں بڑھائی گئی تاہم پروٹیکٹڈ صارفین کیلیے فکس چارجز 10 روپے سے بڑھا کر 400 روپے کردیئے گئے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کیلیے گیس کی قیمت میں 172 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا جبکہ ماہانہ 25 مکعب میٹر کے صارفین کیلیے قیمت 200 سے بڑھا کر 300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اور ماہانہ 60 مکعب میٹر استعمال پر گیس کی قیمت 300 سے بڑھ کر 600 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ماہانہ 100 مکعب میٹر استعمال پر گیس کی قیمت 400 سے بڑھا کر 1000روپے، ماہانہ 150 مکعب میٹر استعمال پر گیس کی قیمت 600 سے بڑھا کر 1200 روپے اور ماہانہ 200 مکعب میٹر استعمال پر گیس کی قیمت 800 سے بڑھا کر 1600 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کردی گئی ہے۔ ماہانہ 300 مکعب میٹر استعمال پر گیس کی قیمت 1100 سے بڑھ کر 3000 روپے، ماہانہ 400 مکعب میٹر استعمال پر گیس کی قیمت 2000 سے بڑھا کر 3500 روپے اورماہانہ 400 مکعب میٹر سے زائد استعمال پر قیمت 3100 سے بڑھا کر 4000 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
تندوروں کیلیے گیس کی قیمت 600 روپے، پاور پلانٹس 1050 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو برقرار ہے جبکہ سیمنٹ سیکٹر کیلیے گیس کی قیمت 4400 روپے، سی این جی سیکٹر کیلیے 3600 روپے مقرر کی گئی ہے۔برآمدی صنعتوں کیلیے گیس کی قیمت 2100 روپے اور غیر برآمدی صنعتوں کیلیے گیس کی قیمت 2200 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کردی گئی ہے۔
تاہم عوام کے لئے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے نومبر کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کر دی گئی۔
جس کے مطابق نومبر کے لیے ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 117 روپے47 پیسے سستا ہوگیا ہے، 11.8 کلو کے ایل پی جی سلنڈر کی نئی قیمت 2962 روپے17 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں9 روپے 96 پیسے کی کمی کی گئی۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق فی کلو ایل پی جی کی نئی قیمت 251 روپے03 پیسے مقرر کی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔