اترپردیش: بھارتی ریاست اتر پردیش میںپیش آئے ایک ظالمانہ واقعہ میں شدت پسند ہندوئوں نے جنسی ہراسانی کے خلاف احتجاج پر لڑکی کو کھولتے تیل کی کڑاہی میں ڈال دیا ۔ پولیس نے لڑکی کے بھائی کی شکایت پر قتل، لڑکی پر تشدد اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے
بھارت میں آئے دن لڑکیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں اور بھارت میں مودی کے حکومت میں آنے کے بعد ان واقعات میں کافی اضافہ ہوگیا ہے۔ ریاست اترپردیش میں پیش آنے والے ایک ایسے ہی واقعے میں جنسی ہراسانی کے خلاف احتجاج کرنے والی دلت ذات کی لڑکی کو کھولتے ہوئے تیل کی کڑاہی میں ڈال دیا گیا۔بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق واقعہ ریاست اترپردیش کے علاقے باغ پت میں پیش آیا جہاں کھولتے ہوئے ہوئے تیل میں ڈالنے کی وجہ سے 18سالہ لڑکی بری طرح جھلس گئی اور اسے علاج کے لیے دہلی کے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
متاثرہ لڑکی کے بھائی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا کہ دھرونا سلور نگر گائوں میں ان کے خاندان کے افراد ایک تیل کی مل میں کام کرتے ہیں اور ان کی بہن بھی اسی مل میں کام کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میری بہن اس مل میں کام کررہی تھی کہ مل کے مالکان اور ملزمان پرامود اور اس کے ساتھیوں راجو اور سندیپ نے اسے ہراساں کرنا شروع کردیا اور جب اس نے احتجاج کیا تو انہوں نے ذات پات پر مبنی گالم گلوچ شروع کردی۔لڑکی کے بھائی کے مطابق اس کے بعد ملزمان نے لڑکی کو اٹھا کر کھولتے ہوئے تیل کی کڑاہی میں ڈال دیا۔
لڑکی بری طرح سے جھلس گئی اور اسے علاج کے لیے دہلی کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ دہلی ہسپتال کے بستر سے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے 18 سالہ متاثرہ لڑکی نے کہا کہ ملزمان نے اس سے بدتمیزی کی اور بدکلامی کرنے کے بعد اسے کھولتے ہوئے تیل کی کڑاہی میں ڈال دیا۔
پولیس نے لڑکی کے بھائی کی شکایت پر قتل، لڑکی پر تشدد اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔سرکل افسر وجے چوہدری نے کہا کہ ہم نے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔
اس افسوسناک واقع میں لڑکی کا آدھے سے زیادہ جسم جھلس گیا جس میں اس کی ٹانگیں اور بازو بری طرح سے جھلس گئے ہیں۔


