
اسلام آباد:اپنے ملازم پر تشدد کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد برٹش ایشین ٹرسٹ نے معروف پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان سے اپنی رائیں جدا کر لی ہیں۔ برٹش ایشین ٹرسٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ کی تشدد کے خلاف سخت پالیسی ہے اور وہ گلوکار کے ساتھ کسی بھی طرح کی وابستگی ختم کررہے ہیںانہوں نے کہا ہمارا ادارہ کسی بھی قسم کے تشدد کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ وہ راحت فتح علی خان کی وائرل ویڈیو کے بعد ان سے قطع تعلق کررہے ہیں۔
یاد رہے کہ راحت فتح علی خان کو 2017 میں برٹش ایشین ٹرسٹ کا سفیر نامزد کیا گیا تھا اور اس وقت پرنس چارلس نے ان کی تقرری کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔
قبل ازیں معروف گلوکار نے اپنے ملازم سے معافی مانگی تھی ۔ملازم پر تشدد کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد معروف پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان نے اپنے شاگرد نوید حسنین کے ہمراہ ویڈیو پیغام جاری کیا ہے ،راحت فتح علی اپنے شاگرد نوید حسنین کیساتھ کھڑے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ نوید حسنین ہیں جن کی ویڈیو وائرل ہوئی ، اصل میں ہوا کیا تھا وہ ان سے انہی کی زبانی سنیئے گا لیکن اس سے قبل میں ان سے معافی مانگتا ہوں ، یہ میرا شاگرد، میرا بچہ ہے ا ور استاد شاگرد میں یہ سب چلتا رہتا ہے، میں سب کے سامنے نوید سے ان کیمرہ پھر معافی مانگتا ہوں ۔
اس کے بعد شاگرد نے کہا کہ یہ مرے استاد ، باپ اور میرے مرشد ہیں ۔ جس نے ویڈیو بنا کر شیئر کی ہے اس نے غلط حرکت کی ہے ، یہ میرے باپ میرے پیر ہیں، باپ بیٹے کو مار ہی لیتے ہوتے ہیں ایسی ویسی کوئی بھی بات نہیں ہے۔
انہوںنے کہا اصل میں یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ میں استاد جی کے لئے پیر جی کا دم کیا ہو اپانی بھول گیا تھا۔ جس کی وجہ سے انہیں غصہ آگیا اور انہوں نے مجھے مارا۔
انہوں نے کہا پیر جی کا دم کیا ہوا پانی ایک بوتل میںتھا جو میںکہیں کھ کر بھول گیا اور وہ اسی بوتل کا پوچھ رہے تھے۔
مذکورہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد راحت فتح علی خان کو یہ پہلا بڑا دھچکا ہے۔




