ٹاپ 20 ممالک میں صرف ایک مسلم ملک کا نام شامل ہے
2021 ء تک کوئی مسلمان ملک اس میں شامل نہیں تھا ،2022 ء میں مصر 18 ویں نمبر پر آگیا

اوٹاوا (نیٹ نیوز)فحش فلموں کی سب سے بڑی کینیڈین ویب سائٹ نے اپنا نواں سالانہ ریویو جاری کیا ہے جس کے مطابق امریکہ اس بار بھی فحش بینی میں پہلے نمبر پر رہا ، اس بار کی فہرست میں ایک مسلمان ملک بھی شامل ہے۔جبکہ 2021 ء تک کوئی مسلم ملک اس فہرست میں شامل نہیں تھا، پہلی بار 2022 ء میں مصر کا نام سامنے آیا ہے۔کینیڈا خود اس فہرست میں 8 ویں نمبر پر موجود ہے ۔برطانیہ دوسرے اور فرانس تیسرے نمبر پر ہے
ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق فحش بینی میں ہر سال کی طرح امسال بھی امریکہ کا پہلا نمبر رہا جس کے بعد برطانیہ، فرانس، جاپان، میسکسیکو، اٹلی، جرمنی اور کینیڈا کا نمبر رہا ۔ فلپائن، برازیل، سپین، پولینڈ، نیدرلینڈ، آسٹریلیا،یوکرین، ارجنٹینا اور کولمبیا بھی سب سے زیادہ فحش بینی کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔
2022 کی فہرست میں ایک ہی مسلمان ملک کا نام شامل ہے جو عرب دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک مصر ہے اور یہ 18 ویں نمبر پر ہے۔ اس کے بعد سویڈن اور بیلجیئم بالترتیب 19 ویں اور بیسویں نمبر پر ہیں۔ ویب سائٹ پر سب سے زیادہ وقت گزارنے میں مصری پہلے نمبر پر رہے ۔ انہوں نے اوسطا 11 منٹ 12 سیکنڈ گزارے جو ٹاپ 20 ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ ویب سائٹ کی 79 فیصد سے زیادہ ٹریفک انہی 20 ممالک سے آتی ہے۔
واضح رہے کہ ویب سائٹ کی رواں سال کی فہرست کے ٹاپ 20 میں مصر نے پہلی بار جگہ بنائی ہے۔ پچھلے سال مصر کا نام اس رپورٹ میں عرب کیٹگری کی وجہ سے صرف حوالے کے طور پر شامل کیا گیا تھا
سنہ 2021 کے دوران اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ جاپانی فحش فلمیں دیکھی گئیں جبکہ خواتین کی ہم جنس پرستی پر مشتمل مواد دوسرے نمبر پر رہا۔ جاپانی فحش فلمیں پورے ایشیا میں سب سے زیادہ دیکھی گئیں جب کہ پاکستان اور انڈیا میں سب سے زیادہ لوگوں نے انڈین فحش فلمیں دیکھیں۔ عرب ملک مصر کے صارفین نے "عرب” کیٹگری کو سب سے زیادہ دیکھا ۔
یاد رہے کہ یہ ویب سائٹ گزشتہ آٹھ سالوں سے اپنے ڈیٹا کا تجزیہ پیش کرتی آ رہی ہے۔ رواں سال کئی صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں پاکستان اور مصر کا نام صرف حوالے کے طور پر شامل کیا گیا ہے البتہ باقی کسی مسلمان ملک کا نام پوری رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔ پاکستان کا نام انڈیا کے ساتھ ایک ہی ریجن میں ہونے کی وجہ سے شامل ہوا جب کہ مصر کا نام عرب کیٹگری کی وجہ سے رپورٹ میں آیا تاہم دونوں ممالک کے ایسے کوئی اعداد و شمار رپورٹ میں شامل نہیں ہیں کہ یہاں کتنے لوگوں نے یا کتنے گھنٹے فحش بینی کی ۔



