کامسٹیک کا ڈی این اے ویکسینز پر کی گئی حالیہ تحقیق اور اسکی ترقی پر سیمینار کا انعقاد

اسلام آباد: کامسٹیک سیکرٹریٹ میں زوونوٹک امراض اور ڈی این اے ویکسینز میں حالیہ تحقیق اور ترقی کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔افتتاحی سیشن سے او آئی سی کے ڈائریکٹر جنرل آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی عبدالنور محمد سکندی، انڈونیشیا کے سفارت خانے کے پاکستان میں چارج ڈی افیئرز رحمت ہندیارتا، اور ترکی کے سفارتخانے کے پاکستان میں ایجوکیشن کونسلر ، مہمت تویران نے خطاب کیا۔
سیکنڈی ڈائیریکٹر جنرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی او آئی سی نے کہا کہ یہ مقامی ویکسین کی ترقی کے شعبے میں سب سے اہم اقدام ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے پہل کرنے پر کامسٹیک کی تعریف کی۔ انہوں نے ویکسین کی ترقی کے میدان میں مقامی صلاحیت کی تعمیر اور خود انحصاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ زندگی بچانے والی ویکسین تیار کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے ویکسین کی تیاری اور فراہمی میں معاونت کی سرگرمیوں میں او آئی سی کی طرف سے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے ویکسین کی تیاری کے لیے او آئی سی ممالک کے درمیان وسیع تر تعاون پر زور دیا۔
پاکستان میں انڈونیشیا کے سفارت خانے کے چارج ڈی افیئرز ہندارتا نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مسلمان سائنسدانوں کے کام کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2017 میں انڈونیشیا نے خود کو ویکسین کی تیاری کے لیے ایک مرکز کے طور پر حلال ویکسین کی تیاری پر کام شروع کیا۔ انہوں نے پاکستان کے صحت کے شعبوں اور او آئی سی کے رکن ممالک کو انڈونیشیا میں فارما اور صحت کے شعبوں میں مزید تعاون کی پیشکش کی۔
ترکء کے سفارت خانے کے ایجوکیشن کونسلر مہمت تویران نے کہا کہ کامسٹیک او آئی سی ریاستوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اور کامسٹیک نے جدت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔سیمینار میں 90 سے زائد اسکالرز ذاتی طور پر اور آن لائن شریک ہوئے۔