تاہم احتجاج جاری رہے گا بلکہ اس کو مزید وسعت بھی دی جائے گی،جب تک فارم 45 کے تحت اصل نتائج کا اعلان نہیں کیا جاتا

کوئٹہ:8 فروری کو ملک بھر میں ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف چار جماعتی اتحاد نے 17 دنوں سے جاری احتجاجی دھرنا ختم کر دیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ دھرنا ختم ہو گیا مگر احتجاج جاری رہے گا اور اس کو مزید وسعت دی جائے گی۔بلوچستان نیشنل پارٹی کوئٹہ کے صدر غلام نبی مری نے اردو نیوز کو بتایا کہ چار جماعتی اتحاد کی رابطہ کمیٹی نے باہمی مشاورت سے 17 دنوں سے جاری دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم احتجاج کو مزید وسعت دیتے ہوئے صوبے بھر میں ضلعی سطح پر احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کا انعقاد ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک فارم 45 کے تحت اصل نتائج کا اعلان نہیں کیا جاتا ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے انسکمب روڈ پر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کے دفتر کے باہر نو فروری سے احتجاجی دھرنا جاری تھا۔ چار جماعتی اتحاد کے کارکن کیمپ لگا کر سخت سردی میں بھی دن رات بیٹھے رہے ۔ احتجاج کی وجہ سے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر بند اور سرکاری کام ٹھپ ہوکر رہ گئے تھے۔ اس دوران انسکمب روڈ بھی ٹریفک کے لیے بند رہا۔ دھرنا ختم ہونے کے بعد دونوں سرکاری دفاتر کھل گئے ہیں۔ سڑک سے بھی رکاوٹیں ہٹا کر ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا۔
چاروں جماعتوں کا الزام ہے کہ انتخابات میں بلوچستان میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی۔ اس کے خلاف انہوں نے اتحاد تشکیل دے کر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ اس احتجاجی تحریک کے سلسلے میں بلوچستان بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈائون ہڑتالیں کی گئیں اور قومی شاہراہوں کو بند رکھا گیا۔مظاہرین کو الزام تھا کہ اربوں روپے لے کر انتخابات کے نتائج میں ردوبدل کیا گیا۔
اس دوران کوئٹہ اور پشین میں مشترکہ جلسے بھی کیے گئے جس سے محمود خان اچکزئی، سردار اختر مینگل، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور عبدالخالق ہزارہ نے خطاب کیا۔
چار جماعتی اتحاد نے 28 فروری کو کوئٹہ کے ہزارہ ٹان میں جلسے کا اعلان کیا تھا تاہم جلسے کے منتظم اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی قادر علی نائل نے بتایا کہ موسمی حالات کے پیش نظر جلسہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں پیر سے بارشوں اور برفباری کی پیشن گوئی کی گئی ہے جس کا سلسلہ چار مارچ تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری کبیر افغان کا کہنا ہے کہ انتخابات میں بالادست قوتوں نے اپنی من مانی کی اور عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا۔ اتوار بازار لگا کر نشستوں کی خریدو فروخت ہوئی اور عوام کے حقیقی نمائندوں کی بجائے من پسند لوگوں کو دھاندلی کے ذریعے آگے لایا گیا۔
کبیر افغان کا کہنا تھا کہ احتجاج کو مزید وسعت دی جائے گی اور ملک گیر سطح پر مظاہروں اور ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔
اس احتجاجی تحریک کے سلسلے میں بلوچستان بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈان ہڑتالیں کی گئیں اور قومی شاہراہوں کو بند رکھا گیا۔
کوئٹہ : انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف چار جماعتی اتحاد کا دھرنا ختم



