کمیشن اپنی تحقیق میں سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر کسی ایجنسی، محکمے یا حکومتی ادارے کے خلاف کارروائی تجویز کرے گا
تحریک انصاف نے کمیشن مسترد کر دیا، چیلنج کرنے کا اعلان، قمر الزمان کائرہ نے یاد دلایا کہ یہ وزیراعظم کے عہدے کےلئے آپکے امیدوار تھے

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے الزامات پر ایک رکنی انکوائری کمیشن بنانے کی منظوری دے دی ، جسٹس (ر) تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔سپریم کورٹ بار، پنجاب بار، لاہور ملتان ہائیکورٹ بار ایسویسی ایشنز نے کمیشن کے قیام کا خیرمقدم کیا ہے۔ جبکہ تحریک انصاف اور بلوچستان کی مختلف وکلاء تنظیموں نے کمیشن کو مسترد کر دیا ہے۔ ہفتہ کو وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جسٹس (ر) تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ بنانے سمیت اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ میں کہا گیا اجلاس نے 25 مارچ 2024 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 معزز جج صاحبان کی جانب سے لکھے گئے خط کے مندرجات پر تفصیلی غور کیا۔ اجلاس کو بتایاگیا کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ اعلامیے کے مطابق عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی کی وزیر اعظم سے ملاقات میں انکوائری کمیشن کی تشکیل تجویز ہوئی تھی۔اعلامیے کے مطابق وفاقی کابینہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ جج صاحبان کے خط پر انکوائری کمیشن کی تشکیل کی منظوری دیتے ہوئے سابق چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی کو انکوائری کمیشن کا سربراہ نامزد کردیا۔وفاقی کابینہ نے انکوائری کمیشن کی شرائط کار (ٹی اوآرز) کی بھی منظوری دی۔ ٹی او آرز کے مطابق انکوائری کمیشن معزز جج صاحبان کے خط میں عائد کردہ الزامات کی مکمل چھان بین کرے گا اور تعین کرے گا کہ یہ الزامات درست ہیں یا نہیں۔ انکوائری کمیشن تعین کرے گا کہ کوئی اہلکار براہ راست مداخلت میں ملوث تھا؟کمیشن اپنی تحقیق میں سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر کسی ایجنسی، محکمے یا حکومتی ادارے کے خلاف کارروائی تجویز کرے گا۔ کمیشن کو یہ بھی اختیار ہوگا کہ وہ انکوائری کے دوران ضروری سمجھے تو کسی اور معاملے کی بھی جانچ کرسکے گا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کابینہ کے اجلاس نے معزز جج صاحبان کے خط میں ایگزیکٹو کی مداخلت کے الزام کی نفی کرتے ہوئے اسے نامناسب قرار دیا۔ کابینہ ارکان کی متفقہ رائے تھی کہ دستور پاکستان 1973 میں طے کردہ تین ریاستی اداروں میں اختیارات کی تقسیم کے اصول پرپختہ یقین رکھتے ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف نے عدلیہ کی آزادی اور دستوری اختیارات کے تقسیم کے اصول پر کامل یقین رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کابینہ کو اس خط کے بعد اپنی مشاورت اور چیف جسٹس سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بھی اعتماد میں لیا۔کابینہ نے وزیراعظم کے فیصلوں اور اب تک کے اقدامات کی مکمل توثیق وحمایت کی۔
دوسری طرف سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی نے کمیشن کی سربراہی کے لیے رضامندی ظاہر کردی ہے۔ تصدق حسین جیلانی نے ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے کمیشن کی سربراہی کا کہا گیا تھا، حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے ٹی او آرز کا بغور جائزہ لیا ہے اور میں نے کمیشن کی سربراہی کے لیے رضامندی ظاہر کردی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات صاف، شفاف اور میرٹ پر ہوں گی، انکوائری کمیشن کا مقصد ہے کہ عدلیہ کی آزادی برقرار رہے۔
سپریم کورٹ بار، پنجاب بار، لاہور ملتان ہائیکورٹ بار ایسویسی ایشنز نے کمیشن کے قیام کا خیرمقدم کیا ہے۔ جبکہ تحریک انصاف اور بلوچستان کی مختلف وکلاء تنظیموں نے کمیشن کو مسترد کر دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے الزامات کی تحقیقات کے لیے جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں بننے والے کمیشن کو چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ صرف حاضر سروس ججز پر مشتمل کمیشن بنایا جائے ۔اسد قیصر نے وزیراعظم کو ججز کے خط سے پیدا ہونے والی صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے تحریک شروع کی جائے گی۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شیر افضل مروت نے کمیشن کے سربراہ تصدیق حسین جیلانی کو مس فٹ قرار دے دیا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں شیر افضل مروت نے کہا کہ اسلام اباد ہائی کورٹ کے جز کے خط کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، یہ عدلیہ کے وقار کا مسئلہ ہے اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو معاملے پر ازخود نوٹس لینا چاہیے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے کو دبانا چاہتی ہے لیکن ایسے نہیں ہونا چاہیے۔
اپنی ایک اور پوسٹ میں شیر افضل مروت نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے فوری طور پر سنگل رکنی انکوائری کمیشن کے سربراہ کے طور پر جسٹس (ر) تصدق جیلانی کے نام کا اعلان کیا ہے جنہیں مرحومہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1994 میں بطور وزیر اعظم لاہور ہائی کورٹ کا جج بنایا تھا۔ سابق متنازعہ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے تصدیق حسین جیلانی کو 2013 میں قائم مقام چیف الیکشن کمشنر بنایا تھا اور ان کی حکومت بننے کے بعد نواز شریف نے جسٹس تصدق کو چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر فائز کیا تھا۔
تصدق جیلانی سابق نگران وزیر خارجہ جلیل جیلانی کے چچا اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور کے رشتہ دار ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ قانونی حلقوں میں جسٹس جیلانی نے جنٹلمین جج کا لقب حاصل کیا ہے۔شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ تصدق جیلانی کا سب سے متنازع عمل زرداری کے سوئس بینک اکانٹس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بینچ کو چھوڑنا تھا جس کے نتیجے میں بینچ ٹوٹ گیا تھا، بینچ چھوڑنے کے لیے بہانہ بیماری کو بنایا گیا تھا لیکن اسی شام اسے پی سی لاہور میں کافی پر گپ شپ کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ تصدیق جیلانی یقینی طور پر چھ ججوں کے خط کی تحقیقات کا کام انجام دینے والا سب سے مس فٹ شخص ہے اور پی ٹی آئی مشاورت کے بعد کمیشن کی تشکیل کو چیلنج کرے گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء قمر الزمان کائرہ نے تحریک انصاف کو یاد دلایا کہ تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ سابق چیف جسٹس اور نگران وزیراعظم کے عہدے کے لیے تحریک انصاف کے امیدوار تھے۔قمر زمان کائرہ نے گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جن کو تحقیقاتی کمیشن کا سربراہ بنایا گیا ہے وہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس رہ چکے ہیں اور وہ نگران وزیراعظم کے عہدے کے لیے تحریک انصاف کے امیدوار تھے لہذا تحریک انصاف کو تسلی رکھنی ہے۔
انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ تحقیقات حاضر سروس جج کرے لیکن حاضر سروس جج بھی کمیشن کے طور پر ہی کام کرے گا کیونکہ اگر عدالتیں معاملوں کی تحقیقات شروع کردیں گی تو انصاف کون کرے گا، تحقیقات سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے لیکن انکوائری رپورٹ آنے کے بعد یہ معاملہ یقینا عدالتوں میں جائے گا۔
یاد رہے کہ تصدق حسین جیلانی پاکستان کے 21ویں چیف جسٹس رہے ہیں جن کی وجہ شہرت پشاور کے چرچ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے ازخود نوٹس کا فیصلہ بنا۔انہوں نے دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں ایڈہاک جج کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں ہیں۔




