پی ٹی آئی میں اندورنی اختلافات شدید تر ، شہریار آفریدی بھرے جلسے میں پھٹ پڑے


پارٹی میں آستین کے سانپ اور منافق لوگ آگئے ہیں،شوکاز نوٹس کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں


کوہاٹ: پاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور پارٹی رہنمائوں نے کھلے بندوں اپنے تحفظات کا اظہار شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ اس وقت سامنے آیا جب شہریار آفریدی نے علی امین گنڈا پور سمیت پارٹی رہنمائوں کے خلاف بھرے جلسے میں نیا پینڈورا باکس کھول دیا۔
کوہاٹ میں پارٹی ورکرز سے خطاب میں شہریار آفریدی نے علی امین گنڈا پور سمیت دیگر پارٹی رہنماں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میں پیرا شوٹرز قائدین کی جانب سے موصول ہونے والے شوکاز نوٹس کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں۔انہوںنے کہا کہ میں ابھی تک خاموش بیٹھا ہوا تھا مگر اب بولتا ہوں کہ پی ٹی آئی میں آستین کے سانپ اور منافق لوگ آگئے ہیں، جلد میں اس حوالے سے کھل کر بات کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا اور انہیں بے نقاب کروں گا، ایک بار پھر واضح کرتا ہوں کہ عمران خان اور پاکستان ہمارے لیے لازم و ملزم ہیں۔شہریار آفریدی نے کہا کہ علی امین اور پارٹی رہنماں کو میرا آخری پیغام ہے کہ ایسے کارکنان کو موقع دیں جنہوں نے پارٹی کے لیے قربانیاں دیں مگر آج ان آمروں کو یہ لوگ گلے لگا رہے ہیں جنہوں نے تحریک انصاف کو نقصان پہنچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم پیراشوٹرز آمروں کو گلے نہیں لگانے دیں گے لہذا آپ کارکنان کو گلے لگائیں، مجھے پھٹنے پہ مجبور نہ کریں میں ابھی خاموش ہوں یہ پارٹی آپ کے باپ کی جاگیر نہیں ہے، جو خان کے خلاف جائے گا میں ان کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ بنوں گا۔
شہریار آفریدی نے مزید کہا کہ جن ورکروں کی ماں بیٹیوں کی عزتوں پہ ہاتھ ڈالا گیا اور تم اکیلے بیٹھ کے ان کی قسمتوں کے فیصلے کر رہے ہو مگر میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔
انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو دھمکی دیتے ہوئے کہا پارٹی کے اندر اس وقت کچھ منافق اور آستین کے سانپ موجود ہیں، چند لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اب تک خاموش ہوں، مجھے پھٹنے پر مجبور نہ کریں۔جنہوں نے پیٹھ میں چھرے گھونپے ان کو پھر سے گلے لگانے نہیں دیں گے۔