چین کے علاوہ ، فرانس، برطانیہ، کینیڈا، جاپان اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے

بیجنگ:چین نے اسرائیل ایران کشیدگی کی اصل وجہ غزہ تنازعہ کو قراردیا ہے۔چین کی جانب سے جاری بیان میں چین نے اسرائیل پر ایرانی حملے سے پیدا کشیدگی پر شدید اظہار تشویش کرتے ہوئے
غزہ تنازع کو موجودہ صورتحال کی وجہ قرار دیا۔بیان میں سلامتی کونسل کی اسرائیل حماس جنگ بندی کے لیے قرارداد پر فوری عمل کرنے پر زور دیتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا گیاہے۔
اسرائیل پر ایرانی حملہ کے حوالے سے چین کے علاوہ ، فرانس، برطانیہ، کینیڈا، جاپان ، اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔
ایرانی حملوں پر اپنے ردعمل میں برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے کہا کہ ایران نے پھر دکھا دیا کہ وہ اپنے اطراف افراتفری پیدا کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ اسرائیلی سلامتی کے لیے کھڑا رہے گا۔
اس حوالے سے کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ایران کی تازہ کارروائی خطے کو غیر مستحکم کرے گی۔جاپانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کا حملہ مشرق وسطی میں کشیدگی بڑھائے گا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیل پر ایرانی حملے کی مذمت کی ہے۔انہوں نے فریقین سے فوری جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کیا جائے جس سے بڑے فوجی تصادم کا خدشہ ہو۔
یاد رہے کہ ایران نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کا جواب دیتے ہوئے اسرائیل پر 200کے قریب ڈرون اور میزائل داغے تھے۔ایران نے اسرائیلی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا، گولان کی پہاڑیوں اور شام کے قریب اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔اسرائیل نے تسلیم کیا ہے کہ اس حملے سے اس کے فوجی اڈے اور ائر بیس کو نقصان پہنچا ہے۔
ایران نے اسرائیل پر 300 سے زائد میزائل داغے تھے۔ امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 80 سے زائد ڈرونز کو نشانہ بنایا۔اردن کی فضائیہ نے بھی درجنوں ڈرونز کو نشانہ بنایا۔



