پارلیمانی جمہوریت میں نائب وزیراعظم کے حوالے سے آئین خاموش ہے

اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو نائب وزیراعظم پاکستان مقرر کردیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف کے نائب کے طور پر اسحاق ڈار کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری اس نوٹیفکیشن کے مطابق اسحاق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیر اعظم تقرری فوری طور پر ہوگی۔
مسلم لیگ ن کے رہنماء طلال چودھری نے ایک ٹی وی پروگروام میں کہا کہ اسحق ڈار کی تقرری اسٹیبلشمنٹ کے لئے کوئی پیغام نہیں ہے نہ ہماری اسٹیبلشمنٹ سے کوئی دوڑ نہیں لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کابینہ اور بیانیہ کے حوالے سے ہر فیصلہ پارٹی کے سربراہ میاں نوازشریف کی مشاور ت سے ہوتا ہے۔
جاپان میں پاکستان کے سفیر رضا بشیر تارڑ نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیر اعظم تقرری پر انہیں مبارکباد پیش کی۔سفیر پاکستان نے وزیر خارجہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسحق ڈار کا نائب وزیر اعظم تعینات ہونا انکی خدمات کا مناسب اعتراف ہے۔سفیر پاکستان نے مزید کہا کہ اسحق ڈار کا نائب وزیر اعظم تعینات ہونا وزارت خارجہ کے لیے باعث فخر ہے۔
یاد رہے کہ سابق وزیر خزانہ رہنے والے ن لیگی سینیٹر اسحاق ڈار موجودہ حکومت میں وزیر خارجہ بھی ہیں۔
یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ آئین کے مطابق وزیراعظم کے لئے قومی اسمبلی کا رکن ہونا ضروری ہے لیکن آئین میں نائب وزیراعظم کے تقرر اور کردار کے حوالے سے کوئی ذکر نہیں ہے ۔آئین اس حوالے سے خاموش ہے اور ماضی میں اس کی کوئی مثال بھی موجود نہیںہے کہ منتخب جمہوری حکومت میں کسی سینٹر کو نائب وزیراعظم مقرر کیا گیا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




