اگر رکن پارلیمنٹ دہری شہریت نہیں رہ سکتا تو ججز کو بھی اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے
بیان پر قائم ہوں، جو ہماری پگڑی اچھالے گا ہم اس کی پگڑی کا فٹبال بنادیں گے،فیصل واڈا

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر) آزاد سینٹر فیصل واڈا کی جانب سے عدلیہ کو دھمکانے کے حوالے سے کی جانے والی دھواں دھار پریس کانفرنس ان کے گلے کا پھندا بن گئی ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان کی پریس کانفرنس کا از خود نوٹس لے لیا ۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ ون ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرے گا۔سپریم کورٹ رجسڑار آفس کی جانب سے کیس کو نمبر لگا کر اٹارنی جنرل کو نوٹس بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری از خود نوٹس کیس کی کاز لسٹ کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ آج جمعہ کو اس کی سماعت کرے گا جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان بینچ میں شامل ہیں۔
جمعرات کو سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی آرڈیننس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران بھی فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کا ذکر ہوا تھا۔پریس کانفرنس میں فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابرستار کو ایک سال بعد چیزیں یاد آرہی ہیں، عوامی نمائندے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو آپ کیسے رکھ سکتے ہیں؟۔فیصل واوڈا نے کہا تھا کہ جج دہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہیں، امید کرتے ہیں آپ کا جواب جلد آئے گا، اب کوئی پگڑی اچھالے گا توہم اس کی فٹبال بنا دیں گے۔
نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمے کے دوران بھی فیصل واوڈا کی اس پریس کانفرنس کا ذکر کیا تھا۔ سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرکے ریمارکس دیے کہ ہمیں کہا جا رہا ہے کہ پگڑیوں کو فٹ بال بنائیں گے، ایسا کہنے والے درحقیقت خود کو ایکسپوز کررہے ہیں ، کیا آپ اپنی پراکسیز کے ذریعے ہمیں دھمکا رہے ہیں۔
ازخود نوٹس کے بعد فیصل واوڈا کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں فیصل واوڈا نے کہا کہ میں نے جو پریس کانفرنس میں کہا اس موقف پر کھڑا ہوں، اپنی عزت پر گردن کٹوادوں گا پیچھے نہیں ہٹوں گا، جو ہماری پگڑی اچھالے گا ہم اس کی پگڑی کا فٹبال بنادیں گے، مجھے کوئی گالی دے گا جواب میں دو گالیاں دوں گا۔انہوں نے کہا کہ میں نے کسی جج کا نام لے کر بات نہیں کی، رئوف حسن ججوں کو ٹائوٹ کہتے ہیں اس پر کوئی نوٹس نہیں، عطا تارڑ، مصطفی کمال، طلال چوہدری کو نہیں بلایا مجھے سنگل آئوٹ کرکے بلایا گیا، اگر آپ مجھ پر پراکسی کا الزام لگائیں گے تو ثبوت بھی دینا پڑیں گے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ میں نے کسی پر الزام نہیں لگایا، اگر آپ نے میری پگڑی اچھالی ہے تو میں ڈبل اچھالوں گا، غلطی پر کسی سے بھی معافی مانگنی پڑی تو سرعام مانگ لوں گا، مجھے بانی پی ٹی آئی اور پارٹی نے پریشر ککر میں ڈال دیا تھا میں نے کہا معافی نہیں مانگوں گا، پریشر ککر میں تھا لیکن اپنے موقف پر کھڑا رہا۔انہوں نے کہا کہ میں شکر ادا کر رہا ہوں کہ سپریم کورٹ جانے کا موقع ملا ہے، میں ایک ایماندار چیف جسٹس کے سامنے پیش ہو رہا ہوں، میں نے براہ راست کسی پر الزام نہیں لگایا۔
یاد رہے کہ کہ فیصل واوڈا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اگر ممبر اسمبلی دوہری شہریت نہیں رکھ سکتا تو جج کیوں رکھے، جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ آپ کیلئے شراب حلال ہے ہمارے لیے حرام ہے، بھٹو صاحب کے معاملے پر کیا اور کسی کو سزا دی گئی؟ آصف زرداری کو 14 سال سزا ہوئی کوئی پوچھنے والا نہیں، بانی پی ٹی آئی کی چلتی حکومت کو چلنے نہیں دیا جاتا، روٹی، میٹرو ہر چیز پر اسٹے آرڈر ہو جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔



