جسٹس طارق محمود جہانگیری کی سربراہی میںتین رکنی لارجر بنچ 21 مئی کو کیس کی سماعت کرے گا
کیلیفورنیا کی ایک عدالت پہلے ہی اپنے فیصلے میں قراردے چکی ہے کہ ٹیریان کے والد عمران خان ہی ہیں

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ٹیریان کیس ایک سال بعد سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری کی سربراہی میں نیا لارجربینچ 21 مئی کو ٹیریان کیس کی سماعت کرے گا۔بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔اس سے قبل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کی سربراہی میں سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا تھا، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر اس بینچ کا حصہ تھے۔
یاد رہے کہ مبینہ بیٹی ٹیریان وائٹ کو چھپانے پر سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف دائر درخواست کو ایک سال بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔کیس میں عمران خان پر مبینہ بیٹی کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے کا الزام ہے جس میں شہری محمد ساجد محمود نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو نااہل کرنے کی استدعا کر رکھی ہے۔درخواست میں دعوی کیا گیا ہے کہ عمران خان نے برطانیہ میں ٹیریان وائٹ کی کفالت کے انتظامات کیے لیکن اپنے کاغذات نامزدگی میں اور الیکشن لڑنے کے حلف نامے میں اس کا ذکر نہیں کیا۔درخواست گزار کے وکیل کے طور پر پیش ہونے والے سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما خان کی جانب سے 18 نومبر 2004 کے ڈیکلیریشن پر مشتمل اضافی دستاویز پیش کی۔اس میں کہا گیا ہے کہ میں نے یہ ڈیکلیریشن ٹیریان جیڈ خان وائٹ کی درخواست کی حمایت میں کیا ہے جس میں اپیل کی گئی ہے کہ کیرولین وائٹ (ٹیریان کی والدہ اینا لوئیسا سیتا وائٹ کی بہن) کو ٹیریان کا سرپرست مقرر کیا جائے۔ڈیکلیریشن میں مزید کہا گیا ہے کہ جمائما خان نے ٹیریان جیڈ کے سرپرست کے طور پر خدمات انجام دینے سے انکار کردیا تھا اور سرپرستی کے لیے کیرولین وائٹ کا نام تجویز کیا تھا کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ یہ ٹیریان کے بہترین مفاد اور خواہش کے مطابق ہے۔
اینا لوئیسا (سیتا) وائٹ لارڈ گورڈن وائٹ کی بیٹی تھی جنہوں نے ایک بڑے صنعتی گروپ ہینسن پی ایل سی کی امریکی شاخ کی سربراہی کی۔
درخواست گزار ساجد محمود نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی چیئرمین نے سیتا وائٹ سے شادی نہیں کی کیونکہ اس کے نسل پرست والد نے مدعا علیہ (عمران خان) کو دوٹوک انداز میں کہہ دیا تھا کہ اگر انہوں نے سیتا وائٹ سے شادی کی تو ان دونوں کو اس کی دولت میں سے ایک پیسہ بھی نہیں ملے گا۔
اس کے بعد ہی عمران خان کی ملاقات ایک اور امیر خاتون جمائما سے ہوئی اور بہت ہی کم عرصے میں ان سے شادی کرلی۔
درخواست میں ان حالات کا بھی ذکر کیا گیا جن میں ٹیریان جیڈ کی تحویل جمائما کو دی گئی تھی۔اس میں کہا گیا کہ اینا لوئسیا وائٹ نے 27 فروری 2004 کی اپنی وصیت میں جمائما خان کو اپنی بیٹی ٹیریان جیڈ خان وائٹ کا سرپرست نامزد کیا تھا، بعد ازاں اسی برس 13 مئی کو سیتا وائٹ کا انتقال ہوگیا۔درخواست میں کہا گیا کہ جمائما گولڈ اسمتھ 1995 سے 2004 تک عمران خان کی شریک حیات تھیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ چھپائے گئے حقائق کی تصدیق کیلیفورنیا کی ایک عدالت کی جانب کیے گئے فیصلے سے ہوئی جہاں یہ کہا گیا کہ مدعا علیہ (عمران خان) ٹیریان جیڈ کے والد ہیں۔اس میں مزید کہا گیا کہ عمران خان ابتدائی طور پر اپنے اٹارنی کے توسط سے کارروائی میں شامل ہوئے لیکن جب انہیں خون ٹیسٹ کرانے کا کہا گیا تو وہ کیس کی پیروی سے پیچھے ہٹ گئے۔پٹیشن میں الزام لگایا گیا ہے کہ بعد میں جب سیتا وائٹ کی بہن کیرولین وائٹ نے عدالت سے کہا کہ اسے ٹیریان کا سرپرست مقرر کیا جائے تو انہوں نے عدالت میں ڈیکلیریشن جمع کرایا۔
ایک سال قبل جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے اپنا فیصلہ اپ لوڈ کر دیا تھا جس کے مطابق دو ججز نے اپنے فیصلے میں ٹیریان کیس ناقابل سماعت قرار دیا جبکہ چیف جسٹس آفس نے دو ججز کا فیصلہ ویب سائٹ سے ہٹا کر پریس ریلیزمیں نیا بینچ تشکیل دینے کا کہا تھا اور آج ایک سال بعد نیا بنچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے خلاف ٹیریان کیس ایک سال بعد سماعت کیلئے مقرر




