شرح سود میں 1.50 فیصد کمی کی گئی ہے، ایک سال سے بنیادی شرح سود 22 فیصد پر تھی

کراچی:پاکستان کے مرکزی بنک نے چار سال بعد شرح سود میں کمی کر دی ہے۔ پیر کو اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی جاری کی ۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے اعلان کردہ مانیٹری پالیسی کے مطابق شرح سود 22 فیصد سے کم کر 20.5 فیصد کر دی گئی ہے۔
سٹیٹ بینک نے شرح سود میں 1.50 فیصد کمی کی ہے، ایک سال سے بنیادی شرح سود 22 فیصد پر تھی، سخت مانیٹری پالیسی کی وجہ سے مہنگائی کم ہوئی۔ سٹیٹ بینک کے مطابق 2024 میں مہنگائی کی شرح 29 ماہ کی کم سطح 11.76 فیصد پر آگئی ، سخت مانیٹری پالیسی کی وجہ سے مہنگائی پر کنٹرول ہوا، مئی 2024 میں مہنگائی کی رفتار میں نمایاں کمی ہوئی ہے، تاہم مئی کے اعدادوشمار توقعات سے بہتر تھے، سخت مانیٹری پالیسی کی وجہ سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملی۔
امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق حالیہ کمی ملک میں 4 برسوں کے دوران شرح سود میں ہونے والی پہلی کمی ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق شرح سود میں کمی کا فیصلہ آج ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں نوٹ کیا گیا کہ توقعات کے مطابق فروری سے مہنگائی میں خاطر خواہ کمی آئی ہے اور مئی کے مہینے کا آٹ ٹرن توقعات سے زیادہ بہتر رہا۔
یاد رہے کہ ملک میں جون 2023 سے شرح سود 22 فیصد پر برقرار تھی۔



