نواب اکبر بگٹی کی برسی ،بلوچستان خون میں نہا گیا

بلوچستان میں 24 گھنٹوں کے اندر 54 افراد جاں بحق
موسی خیل سمیت مختلف مقامات پر دہشتگردوں کی کارروائیوں میں 38 افراد شہید
دہشتگردوں کی ناکہ لگا کر کارروائیاں، ریلوے پل تباہ، کئی گاڑیاں نذر آتش
سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 21 دہشت گرد ہلاک ہوئے،14 پولیس اور لیویز اہلکار بھی شہید


اسلام آباد:نواب اکبر بگٹی کی برسی کے دن بلوچستان خون میں نہا گیا ،مختلف دہشت گردانہ کاروائیوں میں 38 افراد کو شہید کر دیا گیا۔ دہشت گردوں کے ساتھ تصادم میں پولیس اور لیویز کے10 اہلکار بھی شہید ہو گئے۔
بلوچستان کی دہشتگرد تنظیم نے ایک ہی دن میں مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد سیکورٹی اہلکاروں سمیت 41 افراد کو شہید کردیا، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 21 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
موسی خیل میں مسلح افراد نے 23 افراد کو گاڑیوں سے اتارکر گولیاں مار دیں۔راڑہ شم کے مقام پر مسلح افراد نے سڑک پرناکہ لگایا، بسوں اور ٹرکوں سے مسافروں کو اتارا اور شناخت کے بعد گولیاں مار کر قتل کردیا۔ موسی خیل میں جاں بحق افراد کا تعلق پنجاب سے ہے۔ دہشت گردوں نے دس گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔موسی خیل میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دو نوجوان بھی شامل ہیں، چار شہدا کا تعلق لیہ کے مختلف علاقوں سے ہے۔بورے والا کے دو نوجوان قدیر اسلم اور شہباز بھٹی بھی موسی خیل میں سفاک دہشت گردوں کا نشانہ بنے، دونوں انگور کے تاجر تھے اور انگور لے کر واپس اپنے شہر آرہے تھے۔
دہشتگردوں نے کولپور اور مچھ کے درمیان ریلوے پل کو دھماکے سے تباہ کردیا۔ بولان میں مختلف مقامات سے چھ افراد کی لاشیں ملیں، ایس ایس پی کچھی کے مطابق دولاشیں تباہ شدہ پل کے نیچے دبی ہوئی تھیں جبکہ چارلاشیں قومی شاہراہ سے کول پور کے مقام پر ملیں۔
ایک اور حملے میں دو سرکاری اہلکاروں کوشہید اور چار کو زخمی کردیا گیا، حملے کی زد میں آکر خاتون اور بچی سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔
گلنگور میں بھی لیویز پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کیا۔
دوسری طرف پاکستانی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ رات بلوچستان میں دہشتگردوں کی متعدد کارروائیوں کو ناکام بنایا، اس دوران 21 دہشتگرد ہلاک ہوئے اور سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 14 اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی اسی پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 25 اور 26 اگست 2024 کی درمیانی شب دہشت گردوں نے بلوچستان میں متعدد گھنانی کارروائیاں کرنے کی کوشش کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق دشمن قوتوں کی ایما پر کی گئی دہشت گردی کی ان بزدلانہ کارروائیوں کا مقصد خاص طور پر موسی خیل، قلات اور لیبیلہ اضلاع میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر بلوچستان کے پرامن ماحول اور ترقی کو متاثر کرنا تھا۔ جس کے نتیجے میں بے شمار بے گناہ شہری جان سے چلے گئے۔ترجمان پاک فوج نے بیان میں بتایا کہ ضلع موسی خیل میں دہشت گردوں نے جنرل ایریا راڑہ شام میں ایک بس کو روکا اور بلوچستان میں روزی روٹی کمانے کے لیے کام کرنے والے معصوم شہریوں کو بدنیتی سے نشانہ بنایا۔بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو کامیابی کے ساتھ ناکام بنا دیا اور کلیئرنس آپریشنز، مقامی آبادی کی حفاظت اور تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے 21 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔تاہم آپریشن کے دوران پاک فوج کے 10 جوانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چار اہلکاروں سمیت مٹی کے 14 بہادر بیٹوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے لازوال قربانی دی اور شہادت کو گلے لگا لیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سینی ٹائزیشن آپریشنز کیے جا رہے ہیں، معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والوں، ان گھنانی اور بزدلانہ کارروائیوں کے لیے اکسانے والوں، مجرموں، سہولت کاروں اور حوصلہ افزائی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قوم کے شانہ بشانہ بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
موسی خیل کے علاقے راڑہ شم کے مقام پر ٹرکوں اور مسافر بسوں سے اتار کر شناخت کے بعد 23 مسافروں کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ ایس ایس پی موسی خیل کے مطابق مسلح افراد نے فرار ہونے سے قبل 10 سے زائد گاڑیوں کو بھی آگ لگا کر نذر آتش کردیا۔ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھایا، 2 سے 3 جگہوں پر حملہ کیا۔راڑہ شم کے مقام پر مسلح افراد نے نیشنل ہائی وے پر ناکہ لگایا اور کوئٹہ سے پنجاب کے شہر فیصل آباد جانے والی ڈائیوو بس سے 6 مسافروں کو اتار کر اغوا کرکے لے گئے اور 2 مسافر پک اپ سے تلاشی کے دوران اتار کرلے گئے۔ مسافر عبدالشکور نے بتایا کہ اغوا کیے گئے مسافروں کا تعلق پنجاب سے ہے۔واضح رہے کہ ضلع موسی خیل بلوچستان کی شمال مشرقی سرحد پر واقع ہے جو خیبر پختونخوا اور پنجاب سے متصل ہے۔دہشتگردوں نے قلات میں بھی لیویز کی گاڑی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں پانچ اہلکار شہید ہوئے، جن کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے۔
بلوچستان کے علاقے بولان میں نامعلوم افراد نے کولپور اور مچھ کے درمیان ریلوے پل کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا، جس کے باعث صوبے بھر سے ریل رابطہ منقطع ہوگیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، حملہ آور ناراض بلوچ نہیں، دہشت گرد ہیں، ان دہشت گردوں کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔محسن نقوی نے کہا کہ فورسز نے دہشت گردوں کے عزائم خاک میں ملائے، دہشت گردوں کوان ہی کی زبان میں جواب دیں گے، ان دہشت گردوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ناراض بلوچوں کو منائیں گے اور ان سے ہاتھ ملانے کو تیار ہیں،بہت سارے بیرونی عناصر بلوچستان میں ملوث ہیں،بلوچستان میں ہونے والے واقعات پلاننگ سے ہوئے ہیں، بلوچستان کے حالات میں جو ملوث ہیں وہ دہشت گرد ہیں، انٹیلی جنس اداروں کی ان واقعات کی روک تھام میں ناکامی نہیں
شناخت کرنے کے بعد قتل کیے گئے افراد میں مسافروں کے ساتھ بسوں اور ٹرکوں کے ڈرائیورز بھی شامل ہیں۔
تخریب کاری کے ایک اور واقعہ میں ضلع قلات کے علاقے مہلبی میں مسلح افرادکی فائرنگ سے پولیس اور لیویز اہلکاروں سمیت 10 افرادجاں بحق ہوگئے۔ ایس ایس پی دوستین دشتی کے مطابق فائرنگ سے پولیس کا ایک سب انسپکٹر، 4 لیویزاہلکار اور 5 شہری جاں بحق ہوئے۔فائرنگ کے بعد نامعلوم حملہ آور فرار ہوگئے، گزشتہ رات مسلح افراد کی فائرنگ سے اسسٹنٹ کمشنرقلات آفتاب احمد بھی زخمی ہوگئے۔
ادھر بولان کے علاقے دوزان میں انگریز راج میں تعمیر ہونے والے ریلوے پل بم دھماکے کے نتیجے میں گرگیا، واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور ریلوے حکام موقع پر پہنچ گئے۔ ریلوے پل گرنے سے اندرون ملک پنجاب اور سندھ کیلئے ریل سروس معطل ہوگئی۔
مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں بھی مسلح افراد نے رات گئے لیویز تھانے پر حملہ کیا تھا، فائرنگ کے تبادلہ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔