عدلیہ میں موجود ان کے مہرے اس وقت پریشانی میں سرفہرست ہیں
بانی پی ٹی آئی کی پریشانی بھی قابل دید لیکن وہ پہلے ہی بہت کچھ کھو چکے ہیں
عمران خان اور سانحہ 9 مئی میں ملوث ملزمان کو تھوک کے حساب سے دی جانے والی ضمانتوں کا سلسلہ رک چکا ہے
پی ٹی آئی کے کچھ رہنماء دبے الفاظ میں توکچھ کھل کر ان سے رابطوں کا ا عتراف کر چکے ہیں

اسلام آباد(رپورٹ:محمدرضوان ملک)
جب سے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو فوجی تحویل میں لیا گیا ہے ۔ماضی بعید اور ماضی قریب میں فیض سے فیض یاب ہونے والے شدید پریشان اور ذہنی دبائو کا شکا ہیں۔گو ابھی تک کئی گرفتاریاں ہوچکی ہیں لیکن یہ گرفتاریاں وہ نہیں ہیں جن کی عوام کو توقع تھی اور اب بھی توقع ہے ۔ ان میں سرفہرست منہ زور عدلیہ کے ارباب اختیار بھی شامل ہیں جنہوں نے ماضی میں فیض حمید نیٹ ورک کے لئے کھل کر کام کیا اور نتائج سے بے پرواہ ہو کر ائین و قانون کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر ایسے ایسے فیصلے دئیے کہ خود ان کے ساتھ ججز بھی منہ میں انگلیاں ڈال کر رہ گئے ۔
اپنے اسی نیٹ ورک کے بل بوتے پر جو انہوں نے کئی برسوں کی محنت کے بعد بنایا تھا فیض حمید اپنے ادارے کی تمام حدود و قیود بھی پھلانگ گئے ۔وہ جس طرح ریٹائرمنٹ سے پہلے سیاسی سرگرمیوں میں ملوث تھے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی ان سرگرمیوں میں کوئی فرق نہیں بلکہ وہ پہلے سے بھی زیادہ زہریلے ہو چکے تھے لیکن بالآخر ہر کمال کو زوال ہے اور یہ معقولہ ان پر بھی صادق آگیا اور وہ پکڑ میں آگئے۔
جیسے کہ توقع تھی کہ ان کی گرفتاری سے ملک میں جاری بے یقینی صورت حال کا خاتمہ ہوگا اور صورتحال قدرے بہتری آئے گی اور اس کا اثر ہوا ہے اور اس حوالے سے عدلیہ سے نیازی کو پہلی شکست اس وقت ہوئی جب گزشتہ روز عدلیہ نے پارلیمنٹ کی جانب سے کی جانے والے ان نیب ترامیم کو بحال کر دیا جن کی معطلی کے خلاف عمران خان عدالت عظمیٰ میں آئے تھے اور سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی عدالت نے ان نیب ترامیم کو معطل کر دیا تھا لیکن عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ نے اتفاق رائے سے ان ترامیم کو بحال کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ ہم پارلیمنٹ کے حق قانون سازی کو ختم نہیں کر سکتے اور ان میں سے بیشتر ترامیم وہ ہے جو خود عمران خان کی حکومت کے دورمیں ہوئی تھیں۔
عدلیہ میں موجود مہرے اس وقت سب سے زیادہ پریشان ہیں گو کہ عدالت عظمیٰ میں انکے موجود مہروں میں سے بیشتر ریٹائر ہو چکے اور کئی ایک قبل از وقت جا چکے لیکن ہائیکورٹ کی سطح تک اس طرح کے اثرات ابھی تک موجود ہیں۔بلکہ اب تو اعلیٰ عدلیہ میں فیض حمید کے دور میں ہونے والے تمام تقرریاں ہی مشکو ک ہو چکی ہیں۔لیکن عدالت عظمیٰ میں ثاقب نثار، کھوسہ ،اعجاز الاحسن اور عطا بندیال جیسے مہروں کے جانے کے بعد انہیں پریشانی کا سامنا تھا۔اپنے سالار کے غداری میں پکڑنے جانے کے بعد اب ان کے ماتحتوں میں خوف پایا جاتا ہے اور توقع ہے کہ وہ جلد ہی اپنی راہیں درست کر لیں گے۔
اس گرفتاری ہی کا نتیجہ ہے کہ عمران خان اور سانحہ نو مئی کے ملزمان کو تھوک کے حساب سے ملنے والی ضمانتوں کا سلسلہ کافی حد تک رک چکا ہے۔
خود عمران خان کی پریشانی بھی قابل دید ہے لیکن ان کے پاس کھو کو بہت کچھ نہیں رہ گیا ہے اور وزارت عظمیٰ پہلے ہی کھو چکے ہیں اس وقت ایک سال سے زائد عرصہ سے جیل میں ہیںتاہم فیض حمید کی گرفتار ی سے ان کے جیل سے باہر آنے کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں اور اب تو انہیں یہ خوف بھی ہے کہ آئندہ انہیں فیض حمید کی فیض یافتہ عدلیہ کے بجائے فوجی عدالتوں کا بھی سامنا کر ناپڑ سکتا ہے۔ تاہم اگر ان کا معاملہ عام عدلیہ میں بھی ہوا تو انہیں سمجھ آجانی چاہیے کہ پاکستان میں کسی بھی عہدے پر فائز شخص کی پہلی ترجیح اپنی نوکری بچانا ہوتی ہے۔



