دیکھنا یہ ہے کہ صرف کپتان جارہے ہیں یا پوری ٹیم تبدیل ہو رہی ہے
سلیکٹرز تبدیلی کا فیصلہ کر چکے لیکن کپتان اس سے بے خبر آخری بال تک لڑنے پر بضد ہیں
2028ء تک کا خواب آنکھوں میں سجھانے والے بھول گئے کہ وہ اپنی طبعی عمر پوری کر چکے ہیں
پاکستان میں وزیراعظم ایکسٹینشن دے سکتا ہے لے نہیں سکتا، پرنسپل سیکرٹری اعظم خان بھی ساتھ چھوڑ گئے
کھلاڑیوں کی بغاوت سے پریشان کپتان بھول گئے کہ ماضی میں انہیں بھی کپتانی کھلاڑیوں کی بغاوت پر ہی ملی تھی

اسلام آبادتجزیہ:محمدرضوان ملک )پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت اپنے آخری سانس لے رہی ہے۔کپتان آخری بال تک لڑنے پر بضد ہیں لیکن وہ یہ بھول چکے ہیں کہ سلیکشن کمیٹی ان کی تبدیلی کا فیصلہ کر چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹیم کی اس بغاوت کے نتیجے میں صرف کپتان جارہے ہیں یا پوری ٹیم ہی تبدیل ہور ہی ہے۔ کپتان کی لمبی اننگز کھیلنے اور آخری بال تک لڑنے کے یہ دعوے ٰ اپنی جگہ لیکن اب ٹیم ہی ا ن کا ساتھ دینے پر تیار نہیں ٹیم میں بغاوت ہو چکی ہے دیکھنا یہ ہے کہ صرف کپتان جارہے ہیں یا پوری ٹیم بھی تبدیل ہورہی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ اس بار پوری ٹیم بھی تبدیل ہو گی کیونکہ ون مین شو کے شوقین کپتان نے اپنا کوئی نائب کپتان ہیں تیار نہیں کیا ہے جو ان کی عدم موجودگی میں ٹیم کو سنبھالا دے سکے۔
2028 ء تک کا خواب آنکھوں میں سجائے آخری گیند تک لڑنے کا دعویٰ کرنے والے کپتان یہ بھول چکے ہیں کہ وہ پاکستان میں وزیراعظم کی اپنی طبعی مدت پوری کر چکے ہیںپاکستان میں وزیراعظم کسی کو ایکسٹینشن دے تو سکتا ہے لے نہیں سکتا۔ماضی میں سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی جب رات سات بجے صحافیوں کو عشائیے میں بتا رہے تھے کہ وہ استعفیٰ نہیں دے رہے اس وقت پرائم منسٹر ہائوس میں ان کی رخصتی کی تیاریاں آخری مراحل میں تھیں اور سامان باندھا جا چکا تھا اور رات کو استعفیٰ نہ دینے کا دعوی ٰ کرنے والے وزیراعظم صبح اپنے استعفیٰ کا اعلان کر رہے تھے۔
لیکن لگتا ہے کہ کچھ زیادہ ہی خوش فہمی میں مبتلاء کپتان یہ آپشن بھی کھو چکے ہیں حالانکہ ا ن کے ایک بڑے اتحادی چودھری پرویز الہٰی نے چند روز قبل ان کو بڑے فیصلے کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اپنا ماضی بھول جاتے ہیں اور خا ص کر وزرائے اعظم تو اس معاملے میں کافی بلکھڑ ثابت ہوئے ہیں ۔ملک کو درست سمت میں ڈالتے ڈالتے ان کی اپنی سمت تبدیل ہو چکی ہوتی ہے۔
کپتان یہ بھی بھول گئے کہ ماضی میں انہیں بھی تو کپتانی کھلاڑیوں کی بغاوت پر ہی ملی تھی ۔ کئی سال پہلے جب ٹیم میں جاوید میاں داد کی کپتانی کے خلاف سنئیر کھلاڑیوں نے بغاوت کی تھی تو کپتانی عمران کو ملی تھی اس میں ماضیبعید کے علاوہ ماضی قریب کی بغاوت بھی شامل ہے۔
ون میں شو کے قائل کپتان ماضی کے کپتانوں سے بھی زیادہ نااہل ثابت ہوئی ہے ماضی میں کپتانوں نے اپنے قربانی دیکر ٹیم کو بچا لیا تھا لیکن ون میں شو کے قائل کپتان نے اپنا کوئی نائب ہی تیار نہیں کیا ہے اس لئے لگتا ہے کہ ان کی پوری ٹیم ہی جائے گی اور پھر بعید نہ سہی انہیں اپنے ماضی قریب کا حساب تو دینا ہی ہوگا۔
کپتان یہ بھی بھول گئے تھے کہ پاکستان میں وزیراعظم سرکاری ملازمین کو ایکسٹینشن دے سکتا ہے لے نہیں سکتا ۔اب تو گزشتہ تین سال میں ان کے دست راست رہنے والے ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان بھی جارہے ہیں اور انہوں نے ایک ہاری ہوئی ٹیم کے ساتھ لڑنے کی بجائے ایک سدا بہار ٹیم کا رکن بننا پسند کیا ہے اور وزیراعظم کے ساتھ رہنے کی بجائے آئی ایم ایف کی ٹیم کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔



