یحیی آفریدی پاکستان کے 30 ویں چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے ،ان کی مدت تین سال ہوگی
یحیٰی آفرید اس وقت 59 سال کے ہیں تاہم چیف جسٹس بننے کے بعد ان کی مدت ملازمت چھ سے کم ہو کر تین سال رہ جائے گی

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے نے جسٹس یحیی آفریدی کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کی منظوری دیدی۔جبکہ وزارت قانون نے ان کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ ایوان صدر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر پاکستان نے جسٹس یحیی آفریدی کی تعیناتی 26 اکتوبر سے 3 سال کیلئے کی۔صدر پاکستان نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے (3)، 177 اور 179 کے تحت کی۔صدر نے جسٹس یحیی آفریدی سے 26 اکتوبر کو چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لینے کی بھی منظوری دے دی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تعیناتی نے جسٹس یحیی آفریدی کی بطور چیف جسٹس پاکستان تعیناتی کی منظوری دی تھی جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے صدر پاکستان کو جسٹس یحیی آفریدی کو چیف جسٹس پاکستان تعینات کرنے کی سفارش بھیجی تھی۔
جسٹس یحیی آفریدی کے کیرئیر پر ایک نظر
سپریم کورٹ کے جج جسٹس یحیی آفریدی 23جنوری 1965کو ڈیرہ اسماعیل خان میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج لاہور سے حاصل کی، گورنمٹ کالج لاہور سے گریجویشن جبکہ پنجاب یونیورسٹی لاہورسے ایم اے معاشیات کی ڈگری حاصل کی۔
کامن ویلتھ اسکالرشپ پر جیسس کالج کیمبرج یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کی ڈگری بھی حاصل کی۔ جسٹس یحیی آفریدی نے 1990 میں ہائیکورٹ کے وکیل کی حیثیت سے پریکٹس شروع کی اور 2004 میں سپریم کورٹ کے وکیل کے طورپر وکالت کا آغاز کیا۔
جسٹس یحیی آفریدی نے خیبر پختونخوا کے لیے بطور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی خدمات بھی سرانجام دیں۔ 2010 میں پشاور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج مقرر ہوئے، انہیں 15مارچ 2012 کو مستقل جج مقرر کر دیا گیا۔ 30 دسمبر 2016 کو جسٹس یحیی آفریدی نے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے عہدہ کا حلف اٹھایا۔28 جون 2018 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج مقرر ہوئے۔
جسٹس یحیی آفریدی نے اعلی عدلیہ میں مختلف مقدمات کی سماعت، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں لارجر بینچ کا حصہ رہے اور کیس سے متعلق فیصلے میں اپنا اختلافی نوٹ بھی تحریر کیا تھا۔
جسٹس یحیی آفریدی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے 9 رکنی لارجر بینچ لا کا حصہ بھی رہے۔
جسٹس یحیی آفریدی نے اعلی عدلیہ میں مختلف مقدمات کی سماعت، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں لارجر بینچ کا حصہ رہے اور کیس سے متعلق فیصلے میں اپنا اختلافی نوٹ بھی تحریر کیا تھا۔
جسٹس یحیی آفریدی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 کی تین رکنی ججز کمیٹی میں شامل ہونے سے معذرت کر لی تھی۔
جسٹس یحیی آفریدی کی عمر اس وقت 59 سال ہے اور سپریم کورٹ رولز کے مطابق وہ 65 سال تک بحثیت جسٹس اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیںتاہم چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے کے بعد وہ تین سال بعد چیف جسٹس کی آئینی مدت پوری ہونے پر تین سال بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔


