الوداع قاضی فائز عیسیٰ،خوش آمدید یحیٰ آفریدی

چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسٰی مدت پوری ہونے پر سبکدوش ہوگئے، یحیٰ آفریدی نے نئے چیف جسٹس کا حلف اٹھالیا
قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے ساتھی ججز منصورعلی شاہ ، منیب اختر ،اطہر من اللہ ، عائشہ ملک اورملک شہزاد نے شرکت نہیں کی

اسلام آباد:چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آج 26 اکتوبر کو عمر کی بالائی حد 65 سال تک پہنچنے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے ہیں جبکہ جسٹس یحیٰ آفریدی نے نئے چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ یحیٰ آفرید ی نے ملک کے 30 ویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ان کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد ہوئی، صدر پاکستان آصف علی زرداری نے ان سے حلف لیا۔
ایوان صدر میں ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں صدرمملکت آصف زرداری، وزیراعظم شہباز شریف کے علاوہ تینوں ملسح افواج کے سربراہ شریک ہوئے، اس کے علاوہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز، وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور، وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور وفاقی وزرا نے شرکت کی۔
حلف برداری کی تقریب میں سپریم کورٹ کے جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک سمیت دیگر ججز کے علاوہ سینئر وکلا سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہوئے۔
ادھر، نئے چیف جسٹس کے حلف اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ کی ویب سائٹ اپڈیٹ کر دی گئی، ویب سائٹ پر سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی جگہ جسٹس یحیی آفریدی کا نام چیف جسٹس پاکستان کے طور پر اپڈیٹ کر دیا گیا ہے۔ویب سائٹ کے مطابق چیف جسٹس یحیی آفریدی کے بعد سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ ہیں۔
قبل ازیں گزشتہ روز سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ہم قانون اور کاغذوں پر چلتے ہیں، سچ کیا ہے یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے ،ایک کاغذ ایک پارٹی کے لیے فائدہ مند اور ایک کے خلاف ہوتا ہے۔
فل کورٹ ریفرنس میں نامزد چیف جسٹس یحیی آفریدی اور دیگر 16 ججز سمیت جسٹس قاضی فائز کی اہلیہ اور دیگر اہلخانہ شریک تھے۔
فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس منصورعلی شاہ ، جسٹس منیب اختر ،جسٹس اطہر من اللہ ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس ملک شہزاد نے شرکت نہیں کی۔
فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ مجھے ایک دفعہ کال آئی کہ چیف جسٹس بلا رہے ہیں، مجھے لگا چیف جسٹس نے ڈانٹنے کے لیے بلایا ہے کیونکہ میں انگریزی اخبار میں لکھ رہا تھا مگر انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی جج نہیں، آپ چیف جسٹس بنیں۔جسٹس قاضی کا کہنا تھا کہ کبھی کازلسٹ بنانے میں دخل نہیں کیا، ہو سکتا ہے ، بے پناہ فیصلے غلط کیے ہوں، انصاف دینا ہمارا فرض ہے، میری آزادی میں کچھ گھنٹے رہ گئے ہیں۔
نئے چیف جسٹس یحیی آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس فائز عیسی کے غصے کے وقت صرف آپ کی اللہ ہی مدد کر سکتا ہے، میں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے غصے کا کئی بار سامنا کیا اور تجربہ اچھا نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز کو بہترین انسان پایا، وہ اچھا وقت گزار کر جا رہے ہیں، ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ان کی کمی محسوس کریں گے، انہیں الوداع کہنے میں بہت مختلف احساسات ہیں۔
جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ مسکرا کر بات کریں گے تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے شائستہ جواب سے آپ مانوس ہو جائیں گے، اگر آپ انہیں تنگ کریں گے تو غصے میں ان کی برابری نہیں کرسکیں گے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس ، 5 ججوں نے شرکت نہیں کی جن میں جسٹس منصورعلی شاہ ، جسٹس منیب اختر ،جسٹس اطہر من اللہ ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس ملک شہزاد گھیبہ شامل ہیں۔