بھارت :جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پر مسلم خاتون کھانے سے محروم

ممبئی کے ٹاٹا اسپتال کے باہرکھانا لینے کیلئے قطار میں کھڑی مسلم خاتون کے ساتھ کی گئی بدسلوکی
مودی کے بھارت میں اقلیتوں باالخصوس مسلمانوں کے ساتھ ایسا متعصب روئیہ روز کا معمول ہے

ممبئی :ممبئی کے ٹاٹا اسپتال کے باہر غریب اور نادار مریضوں کو کھانے تقسیم کے دوران جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پر قطار میں کھڑی ایک مسلم خاتون کو کھانا دئیے بغیر باہر کر دیا گیا۔بھارت میں مذہبی شناخت دیکھ کر نفرت کی چنگاری شعلے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔تازہ معاملہ ممبئی کے معروف ٹاٹا اسپتال کے باہر کا ہے۔جہاں مریضوں اور تیمار داروں کو مختلف این جی او کی جانب سے کھانا تقسیم کیا جاتا ہے۔وہاں گزشتہ دنوں ایک این جی او کی جانب سے بزرگ شخص کھانا تقسیم کر رہے تھے جہاں لائن میں انہیں ایک مسلم خاتون حجاب میں لگی نظر آئی ۔انہوں نے اس خاتون سے جے شر ی رام کا نعرہ لگانے کیلئے کہا جس پر وہ راضی نہیں ہوئی تو اسے قطار سے باہر کر دیااور کہا جے شری رام کا نعرہ لگاو تو کھانا ملے گا، ورنہ نہیں ملے گا۔اس پورے معاملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ قطار میں لگ کر کھانا لے رہے ہیں ۔
اس تقسیم کے دوران کھانا تقسیم کرنیوالے بزرگ نے ایک حجاب پہنی مسلم خاتون کو قطارمیں دیکھا تو کہا کہ جے شری رام کہو تو کھانا ملے گا ورنہ نہیں ،جب اس نے منع کیا تو اسے جھڑکتے اور ڈانٹتے ہوئے قطار سے باہر کر دیا گیا۔اس دوران کچھ لوگوں نے ایک خاتون کو اس طرح بد سلوکی سے کھانا نہ دینے پر اعتراض کیا اور کہا کہ آپ کھانا تقسیم کرنے آئے ہیں کھانا تقسیم کر کے جائیں ،کسی کو جے شری رام کا نعرہ لگانے پر کیوں مجبور کر رہے ،یہاں دوسرے مذہب کے لوگ بھی ہیں ۔جب استپال میں مختلف مذہب کے لوگ داخل ہیں تو آپ یہ تفریق نہیں کرسکتے! جس پر کھانا تقسیم کرنے والے معمر شخص نے بحث شروع کردی اور ویڈیو بنانے پر اعتراض کیا۔
بعض لوگوں نے کہا کہ ان کی مرضی اگر وہ جے شری رام کہنے والوں کو کھانا دے رہے ہیں ۔آپ کو نہیں کھاناہے تو کھانا نہ کھائیں۔اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر بحث بھی گرم ہے۔ جس پر صارفین مختلف رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں ۔ بعض لوگ اس رویئے پر تنقید کر رہے ہیں اور کھانا تقسیم کے دوران مخص مذہبی شناخت کے نعرے لگانے کیلئے مجبور کرنے کی مذمت کر رہے ہیں ۔اس سلسلے میں کچھ لوگ مسلمانوں کی جانب سے بلا تفریق کھانا تقسیم کرنے کی ویڈیو شیئر کر کے اس کا جواب بھی دے رہے ہیں اور اسے تہذیبوں کے درمیان فرق سے تعبیر کر رہے ہیں وہیں کچھ تنگ ذہن صارفین نے ا س غیر انسانی واقعہ کی حمایت بھی کی ہے۔
غریبوں ،نادارو ں اور بے سہاروں کی مدد کرنا ایک کار نیک ہے۔ہر مذہب میں اس کی ترغیب دی گئی ہے۔تمام مذاہب کے ماننے والے اس سلسلے میں مختلف طریقوں سے بلا تفریق مذہب و ملت اس قسم کی امداد کرتے ہیں ۔اس میں ہندو مسلم ،سکھ عیسائی تمام مکتبہ فکر کے نیکو کار افراد اور تنظیمیں شامل ہیں۔ مگر حالیہ دنوں میں نفرت اور مذہبی شدت پسندی اس طرح غالب آ گئی ہے کہ یہ نیکی اور انسانی خدمت کا جذبہ بھی مذہبی منافرت کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔خاص طور پر مسلمانوں کے تعلق کے حوالے سے یہ تعصب زوروں پر ہے۔ خاص کر حجاج جو ایک مسلم خاتون کی پہچان ہوتا ہے اس کو دنیا بھر میں تزہیک کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔