بھارت میں مسلمانوں اور مساجد کی مشکلات کم نہ ہوسکیں


عدالت کی جانب سے سنجولی مسجد کی بالائی منازل کو گرانے کا حکم برقرار
مسلم فریق کی درخواست مسترد درخواست میں مسجد کی ان منازل کو گرانے کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا
گیارہ ستمبر کو مقامی ہندوئوں نے مسجد گرانے کیلئے احتجاج مظاہرہ کیا تھا پولیس کے لاٹھی چارج سے کئی افراد زخمی ہوئے تھے

شملہ : پڑوسی ملک بھارت میں مسلمانوں اور مساجد کی مشکلات کم نہیں ہوسکی ہیںہماچل پردیش کی راجدھانی شملہ کی ضلعی عدالت نے سنجولی مسجد میں بنائی گئیں تین منازل کو گرانے کے میونسپل کارپوریشن شملہ کمشنر کے حکم کو برقرار رکھا ہے۔یاد رہے کہ کمشنر نے مسجد کی ان منازل کو غیر قانونی قراردیتے ہوئے انہیں گرانے کا حکم جاری کیا تھا۔ عدالت نے مسلم فریق کی درخواست کو مسترد کر دیا، جس میں مسجد کی ان منازل کو گرانے کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ مسلم فریق کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ انہوں نے اس حکم کو منسوخ کرانے کی کوشش کی تھی۔
سنجولی مسجد کچھ عرصے سے تنازعہ کا شکار ہے۔ الزام یہ تھا کہ مسجد کے اندر تین منزلیں بغیر کسی اجازت کے تعمیر کی گئی تھیں۔ شملہ میونسپل کارپوریشن نے ان منزلوں کو غیر قانونی مانتے ہوئے گرانے کے احکامات جاری کیے تھے۔ میونسپل کارپوریشن کمشنر کے حکم کے بعد مسجد کمیٹی نے غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کا کام شروع کر دیا ہے اور اب تک مسجد کی ایک منزل گرا دی گئی ہے۔
مسلم ویلفیئر سوسائٹی نے شملہ ڈسٹرکٹ کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں مسجد کمیٹی کے چیئرمین محمد لطیف کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ اس پر عدالت نے وقف بورڈ سے مسجد کمیٹی کے ریکارڈ کے بارے میں معلومات مانگی۔ گزشتہ سماعت میں وقف بورڈ نے عدالت میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ محمد لطیف 2006 سے مسجد کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔
مسلم ویلفیئر سوسائٹی کے وکیل وشو بھوشن نے کہا کہ ضلعی عدالت نے ان کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس مسجد کمیٹی کو میونسپل کارپوریشن کمشنر کورٹ نے غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنے کا اختیار دیا ہے، وہ وقف بورڈ ایکٹ کی دفعہ 18 کے تحت مجاز نہیں ہے۔ مزید یہ کہ وہ مسجد کیس میں میونسپل کارپوریشن کمشنر کی عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے تھے۔
مسجد کمیٹی کے چیئرمین محمد لطیف نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن کمشنر کے حکم پر ایک منزل گرائی دی گئی ہے لیکن سردیوں میں مزدوروں کی کمی کے باعث انہدام کا کام عارضی طور پر رک گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کام مارچ تک دوبارہ شروع نہیں کیا جاسکے گا، کیونکہ مزدور سردیوں میں اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ 5 اکتوبر کو سنجولی کی متنازعہ مسجد میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق ایک سماعت کے دوران میونسپل کارپوریشن کمشنر بھوپیندر اتری نے مسجد کی تین منزلوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسجد کمیٹی کو انہیں گرانے کا حکم دیا تھا۔ ان احکامات کی تعمیل میں مسجد کمیٹی نے غیر قانونی حصے کو گرانے کا کام شروع کر دیا ہے اور مسجد کی چھت کو ہٹا دیا گیا ہے۔
سنجولی مسجد کا تنازعہ گزشتہ ستمبر سے مسلسل خبروں میں ہے۔ اس معاملے پر شملہ میں ہندو برادری کے لوگ جمع ہوئے اور مسجد کو گرانے کے لیے احتجاج کیا۔ 11 ستمبر کو سنجولی میں پرتشدد مظاہرے کے دوران مظاہرین رکاوٹیں توڑ کر مسجد کی جگہ کے نزدیک آگئے۔ پولیس کو انہیں بھگانے کے لیے لاٹھی چارج کرنی پڑی۔ اس دوران پولیس اہلکاروں سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے تھے۔