سکیورٹی اداروں کو دھمکانے پر سابق وزیر اعلیٰ جی بی کو 34 سال قید


انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بدھ کو سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کو سزا سنائی
فیصلے میں پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ خالد خورشید خان کو گرفتار کر کے سزا پر عمل در آمد کروائے
تحریک انصاف گلگت بلتستان کا فیصلہ قبول کرنے سے انکار، جبر کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
قبل ازیں چیف کورٹ گلگت بلتستان نے دسمبر 2023 میں جعلی ڈگری کیس میں خالد خورشید کو پانچ سال کے لیے نا اہل قرار د ے دیا جس پر ان کی حکومت ختم ہو گئی تھی

گلگت بلتستان:پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعلی خالد خورشید خان کو سکیورٹی اداروں کو اور سرکاری اہلکاروں‌کو دھمکانے کے جرم پر 34 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
یاد رہے کہ خالد خورشید خان کے خلاف جولائی 2024 میں ایک احتجاج کے بعد اشتعال انگیزی اور دھشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ قبل ازیں دسمبر 2023 میں جعلی ڈگری کیس میں چیف کورٹ گلگت بلتستان نے وزیر اعلی خالد خورشید کو پانچ سال کے لیے نا اہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد ان کی حکومت ختم ہوگئی تھی۔
گلگت بلتستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ استغاثہ کے مطابق خالد خورشید نے 26 جولائی 2024 کو گلگت میں ایک احتجاج کے دوران چیف سیکرٹری گلگت بلتستان، پولیس اہلکاروں، انٹیلی جینس اداروں کو دھمکیاں دیں کہ اگر وہ دوبارہ بر سر اقتدار آئے تو کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔مقدمے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خالد خورشید نے حساس اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کی۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد خالد خورشید خان کے خلاف ایک جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ جے آئی ٹی کی تحقیقات میں بھی خالد خورشید خان قصوروار پائے گئے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خالد خورشید کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے متعدد بار نوٹسز بھجوائے گئے، مختلف ذرائع سے اطلاعات فراہم کی گئیں مگر وہ پیش نہیں ہوئے جس کے بعد انھیں سرکار کی طرف سے وکیل فراہم کیا گیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ دوران کاروائی استغاثہ خالد خورشید پر لگے الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہی جس کے بعد ان کو مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 34سال قید اور جرمانوں کی سزا سنائی جاتی ہے۔
فیصلے میں پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ خالد خورشید خان کو گرفتار کر کے ان کی سزا پر عمل در آمد کروائے۔عدالت کی جانب سے نادرہ کو حکم دیا گیا ہے کہ خالد خورشید کا شناختی کارڈ بلاک کردیا جائے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان نے عدالت کے اس فیصلے کو قبول کرنے سے انکار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جبر کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید اس وقت مفرور ہیں۔