اسرار احمد راجپوت ،ایک فلیڈ رپورٹر کے قلم سے
اور اپنی جات (زات) سے ڈرامے باج (ڈرامے باز) اخبار والے گینگ کو کمپنی کا نام دے دیے یہ جملہ میں نے انڈین فلم کمپنی میں سنہ 2002 میں سنا لیکن تب میں سٹوڈنٹ تھا/دل و دماغ میں ہلکا سا شوق تھا اخبار والا رپورٹر بننے کا کہ BA میں جرنلزم میں گورنمنٹ گورڈن کالج میں ٹاپ کیا تھا مگر مالی وسائل نہ ہونے وجہ سے میں یونیورسٹی نہ جاسکا اور ایک بار پھر کنسٹرکشن کا کام شروع کر دیا کہ پیسے جمع کر کے لازمی یونیورسٹی سے جرنلزم میں ایم اے کرنے کے بعد صحافی بننا ہے۔۔
۔۔اللہ کا خاص کرم ہوا اور میرے کنسٹرکشن ورک میں استاد رانا محمد بشارت کی مدد/دعا سے میں اس قابل ہوا کہ یونیورسٹی جا کر ایڈمیشن لے سکوں اور یہاں پر میں اپنے گورڈن کالج کے جرنلزم کے پروفیسر سر مسعود الرحمن کا/انکی نیکی کا ذکر ضرور کروں گا کہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا اور میں انکے گھر پینٹ کا کام کر رہا تھا کہ افطاری کے وقت بولے اسرار تم میری کلاس کے ٹاپر ہواس طرح کام کرتا دیکھ کر تکلیف ہوتی مجھے تو میں ہنس دیا جس پر سر مسعود الرحمن بولے میرے استاد/دوست شیخ مغیث الدین آجکل پنجاب یونیورسٹی میں جرنلزم ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ہیں اگر تم کہو تو میں ان سے ابھی فون پر بات کرتا ہوں تمہارے ایڈمیشن کی۔میں بہت خوش ہوا کہ اللہ راہ کھول رہا اور ہاں کی جس پر سر مسعود الرحمن نے شیخ مغیث الدین صاحب کو کال کی اور کہا سر آپ پاس میں ایک ہیرا بھیج رہا آپ نے اسکو تراشنا ہے اور یوں میں وہاں سے خوشی خوشی افطاری کر کے اپنی دوسری سائیٹ میجر جنرل (ر) سلیم حیات کے گھر گیا جہاں میں ان کے زیر زمین سوئمنگ پول میں پائپس فٹ کر رہا تھا کہ انہیں بتا سکوں دو دن کی چھٹی چاہیے کہ لاہور جانا ہے یونیورسٹی ایڈمیشن لینے۔ میجر جنرل (ر) سلیم حیات کے گھر واقع کچہری گیا اور انہیں ساری بات بتائی جس پر وہ بھی بہت خوش ہوئے اور خوشی سے میرے کام کے پیسے ایڈوانس میں دیے کہ لاہور جانا ہے۔
یوں میں رات 12:30 والی ٹرین سے لاہور پہنچا اور پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس گیا جہاں شیخ مغیث الدین صاحب سے ملاقات ہوئی جنہوں نے اپنے سیکرٹری کے زریعے میرا فوری طور پر ایڈمیشن کیا۔ میں واپس آنے سے پہلے ان سے ملنے انکا شکریہ ادا کرنے انکے آفس گیا تو پوچھا سیکرٹری سے کام ہوگیا جس پر بولے انکا ایڈمیشن DJ میں ہوا تو شیخ مغیث صاحب بولے DJ سے فوری طور پر اسکا ایڈمیشن Replica میں کرو۔ یوں میں نے جرنلزم پڑھنا شروع کی جس رات میں لاہور جانے لگا یونیورسٹی تو میری ماں بہت روئی اور بولی دور مت جائوادھر راولپنڈی میں پڑھو لاہور میں تمھیں کون کھانا بنا کر دے گاکپڑے کون دھوئے گا ،خیال کون رکھے گا۔مگر میں ماں کو روتا چھوڑ کر ایک نئی دنیا میں چلا آیا جہاں مجھے حافظ نوید، زاہد اعزاز، احمد ابوبکر، احسان، محسن بلال، میاں عادل عزیز، انجم فاروق، ملک اکبر، رائے شاہنواز، محمد جنید، موسی بھائی، حاجی ایوب جیسے کلاس فیلوز:بھائی دوست ملے اور یوں میں نے اپنی سٹڈی مکمل کی۔
2006 میں لاہور میں حافظ نوید کی مہربانی سے پہلے Daily Times پھر The Sun Din Media Group اور آخر میں The Nation ایز انٹرنی جوائن کیا اور یوں ڈگری مکمل کر کے میرا سر سرمد بشیر/میڈم ہما/سر ندیم سید و بشارت صاحب کی مہربانی سے اسلام آباد آفس بطور سب ایڈیٹر ٹرانسفر ہوا۔ادھر سر ہمدانی، افضل باجوہ صاحب، ابرار علی سعید اور رانا شاہد جیسے استاد ملے۔
تین ماہ سر شہباز بھٹی ساتھ ڈیسک پر سب ایڈیٹنگ کی مگر لاابالی طبیعت نہ بدلی اور رپورٹنگ شروع کی بس پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا،کچھ عرصہ بعد ایک نہایت ہی بہادر، نڈر اور مہربان شخص سلیمان مسعود دی نیشن کے سب ایڈیٹر بنے جنہوں نے میری صلاحیتوں کو جانا مانا اور مزید پالش کیا،ہمیشہ میرے کام کی تعریف کی اور میں آج جرنلسٹ ہوں۔۔۔۔خیر قارعین بھی بور اور حیران ہوں گے کہ بات انڈین فلم کمپنی کے ایک جملہ جات کے ڈرامہ باز اخبار والے سے شروع ہوئی اور کہاں جا نکلی۔
تو سوال ہے قارعین سے کہ اصل ڈرامہ باز کون ہیں؟ وہ جو جنتا (عوام) کی سیوا کرنے کا عہد کر کے سرکاری نوکری/حکومت میں آتے اور پاور ملتے ہی فرعون بن جاتے/عوام کے حقوق کو پامال کرتے یا پھر ہم اخبار والے زات کے ڈرامہ باز جو ان ظالموں کو آئینہ دکھاتے تاکہ عوام محفوظ رہے۔اپنا حق لے سکے۔سسٹم کو دھیمک کی طرح چاٹنے والوں کو ایکسپوز کرنا ڈرامہ بازی ہے یا پھر عبادت۔
جواب آپ نے دینا ہے۔ آج میرے شفیق استاد سر مغیث الدین شیخ اور میری پیاری ماں اس دنیا میں نہیں ہیں۔ آپ سب سے ان سمیت سب مرحومین کی مغفرت کے لے دعا کی درخواست ہے۔

