کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسی لینس کے سالانہ اجلاس کا آغاز ہوگیا

اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے اعلیٰ تعلیمی رہنماؤں کا رکن ممالک کی جامعات کے مابین تعاون بڑھانے کا عزم

اسلام آباد: اسلامی ممالک اور پاکستان کی نامور جامعات پر مشتمل کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسی لینس کا سالانہ اجلاس 2025 کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں شروع ہوگیا۔ اجلاس میں فلسطین، ملائشیا، بنگلہ دیش، عمان، اردن، پاکستان، تاتارستان، روس، صومالیہ، یوگنڈا، تنزانیہ، موریطانیہ، انڈونیشیاء اور ایران کی مختلف جامعات سے 60 سے زائد وائس چانسلرز، ریکٹرز صدور اور سینئر نمائندوں نے شرکت کی جبکہ چین کی ننگبو یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈرگ ڈسکوری ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ژاؤ یوفن کی قیادت میں سینئر ماہرین تعلیم کے وفد نے اجلاس میں خصوصی طور پر شرکت کی۔
سالانہ اجلاس کا مقصد کامسٹیک کے پلیٹ فارم سے پاکستانی جامعات اور اسلامی ممالک کی جامعات کے مابین، تحقیق، فکیلٹی ایکسچینج و تربیت، اسکالرشپس، سائنس و ٹیکنالوجی، صحت، سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے اور کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسی لینس کے لیے سال 2025 کا ایجنڈا منظورکرنا تھا۔

دوران اجلاس تعلیمی اصلاحات کے ذریعے یونیورسٹیوں کی رینکنگ کو بہتر بنانے کے لیے دو مرحلوں پر مشتمل ایکشن پلان متعارف کرایا،گیا جس کا مقصد او آئ سی رکن ممالک میں یونیورسٹیوں کی عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے جبکہ مسلم ممالک کی جامعات کو درپیش مسائل اور ان سے نمٹنے کے پر خصوصی سیشنسز ہوئے جن میں رکن ممالک کی جامعات کے نمائندگان نے تجاویز پیش کیں۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے کامسٹیک کے کوارڈینٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے کہا کہ ایک پلیٹ فارم پر مسلم امہ کی جامعات کے سربراہان کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ ہم اپنے نیک مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں انہوں نے کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسی لینس کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور رکن ممالک کے درمیان تعاون اور صلاحیت کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے کامسٹیک کے ذریعے کیے گئے کلیدی اقدامات کا خاکہ پیش کیا-

ڈاکٹر اقبال چوہدری نے کہا کہ فلسطین کی تین جامعات کے سربراہان یہاں موجود ہیں ہم فلسطین کی جامعات کی دوبارہ تعمیر کریں گے انہوں نے کہا کہ چین کامسٹیک اور پاکستان کا بہترین ساتھی انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا بنیادی مینڈیٹ او آئ سی رکن ممالک کے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی (S&T) میں تعاون کو مضبوط بنانا، اور او آئ سی کی قراردادوں عمل درآمد کرنا ہے۔ مہمان اعزازی پروفیسر ڈاکٹر ژاؤ یوفن نے سائنس اور ٹکنالوجی کو آگے بڑھانے میں سائنو- کامسٹیک تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔اجلاس سے چینی جامعہ کی چیف ساائسندان لی ضیامن، قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد ، فاسٹ کے ریکٹر ڈاکٹر آفتاب احمد معروف پرایویٹ انسٹی ٹیوٹشن ریگولیٹری ادارے کی چیرپرسن ڈاکٹر ضیابتول اور چینی جامعہ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہو یوفن نے بھی خطاب کیا۔