دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں خودکش حملہ ، مولانا حامد الحق سمیت 8 شہید

خودکش دھماکہ نماز جمعہ کے بعد مسجد کے خارجی راستے میں‌ہوا، نشانہ حامد الحق ہی تھے

نوشہرہ: دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد خارجی راستے میں ہونے والے خود کش دھماکے کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق گروپ (جے یو آئی س) کے سربراہ اور مدرسے کے نائب مہتمم مولانا حامد الحق حقانی سمیت 8 افراد شہید ہوگئے ہیں. حامد الحق معروف عالم دین مولانا سمیع الحق کے فرزند تھے.
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمد نے جامعہ حقانیہ کی مسجد میں خودکش دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے اور متعدد افراد شدید زخمی ہیں۔انہوں‌نے کہا دھماکا خودکش تھا جس میں مولانا حامد کو نشانہ بنایا گیا.آئی جی کے پی نے مزید بتایا کہ حملے کا ہدف جامعہ حقانیہ کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی ہی تھے۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید اور چیف سیکرٹری کے پی شہاب علی شاہ نے دھماکے میں مولانا حامد الحق کے شہید ہونے کی تصدیق کی۔
ڈپٹی کمشنر نوشہرہ عرفان اللہ محسود کا کہنا ہے مولانا حامد الحق حقانی کے جسد خاکی کو سی ایم ایچ نوشہرہ منتقل کردیا گیا۔عرفان اللہ محسود کا کہنا تھاکہ دھماکا مسجد کے اس خارجی راستے پر کیاگیا جس سے مولانا حامدالحق نماز کے بعد گھر جاتے تھے، دھماکا اس وقت کیا گیا جب مولانا حامد الحق رہائش گاہ کے لیے جا رہے تھے۔اکوڑہ خٹک میں ہونے والے دھماکے کے بعد پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور اس حوالے سے ترجمان ایل آر ایچ کا کہنا ہے انتظامیہ اور طبی عملے کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے، ہر قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
مولانا حامد الحق مئی 1968 کو اکوڑہ خٹک نوشہرہ میں پیدا ہوئے، انہوں نے اپنی تعلیم دارالعلوم حقانیہ سے ہی حاصل کی۔وہ مولانا سمیع الحق کے بیٹے اور دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم تھے۔مولانا حامد الحق 2002 سے 2007 تک قومی اسمبلی کے رکن رہے ، والد سمیع الحق کے قتل کے بعد مولانا حامد الحق جے یو آئی س کے سربراہ بنے تھے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دارالعلوم حقانیہ میں خود کُش حملہ فتنہ الخوارج اور ان کے سرپرستوں کی مذموم کارروائی ہے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق خود کُش حملہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے کیا۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خود کُش حملے میں مولانا حامد الحق حقانی کو نشانہ بنایا گیا، جنہوں نے گزشتہ ماہ رابطہ عالم اسلامی کے تخت ہونے والی کانفرنس میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کیا تھا۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ مولانا حامد الحق نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کو بھی خلاف اسلام قرار دیا تھا جب کہ اس بیانیے پر مولانا حامد الحق کو دھمکیاں بھی دی گئی تھیں۔
صدر مملکت اور وزیراعظم کی مذمت
دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری کی دارلعلوم حقانیہ کی مسجد میں خود کُش حملے میں نمازیوں کو نشانہ بنانے کے مکروہ فعل کی مذمت کی اور کہا کہ بے گناہ نمازیوں کو نشانہ بنانا مذموم اور گھناؤنا عمل ہے، دہشتگرد ملک و قوم اور اِنسانیت کے دشمن ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حملے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے حکام کو واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ دہشتگردوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔