
میانوالی عبدالقیوم خان نیازی
میانوالی۔۔ عیسیٰ خیل کے علاقہ کنڈل میں پولیس کے پالتو غنڈوں نے بوڑھی عورت کے درخت کاٹ لئے
تفصیلات کے مطابق عیسیٰ خیل کے نواحی علاقہ کنڈل میں ایک پروین نامی غریب بڑھیا کی زمین سے پولیس چوکی کنڈل کے پالتو غنڈوں دو بھائیوں محمد رمضان اور شفیع اللہ پسران احمد یار نے ساٹھ درخت کاٹ لئے جب بڑھیا نے اس سلسلہ میں ان کی منت سماجت کی تو انھوں نے دھکے مار کر بھگا دیا بڑھیا پروین نے انصاف کیلئے تھانہ عیسیٰ خیل کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ایس ایچ او تھانہ عیسیٰ خیل چوہدری شیر علی عرصہ دراز سے اسے تھانہ کے لگاتار چکر لگوا رہے ہیں لیکن ملزموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کر رہے ہیں جب "میڈیا” نے اس سلسلہ میں تحقیقات کیں تو پتا چلا کہ دونوں ملزمان بھائی پولیس چوکی کنڈل عیسیٰ خیل کے ملازمین کے اسپیشل خدمت گزار ہیں اور وہ پولیس کی ہر قسم کی خدمت کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پولیس ان ملزمان کے خلاف کاروائی کرنے سے انکاری ہے جب اس سلسلہ میں میڈیانے ایس ایچ او چوہدری شیرعلی سے رابطہ کیا تو انھوں نے بڑھیا کو انصاف فراہم کرنے کی بجائے اسکی ذاتی زمین ماننے سے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ جہاں سے درخت کاٹے گئے ہیں وہ سرکاری زمین ہے حالانکہ یہ زمین اسکے خاوند نے پندرہ سال پہلے اسی علاقہ کے رہائشی عزیزاللہ ولد سعداللہ سے اپنی ریٹائرمنٹ کی رقم سے خریدی تھی زمین کے پرانے مالک عزیزاللہ نے "میڈیا” کو بتایا کہ یہ زمین میں نے بیچی تھی اور کہا کہ غریب بڑھیا اور اسکے بچے اس زمیں کے مالک ہیں ان حقائق کے باوجود پولیس تھانہ عیسیٰ خیل بڑھیا کو انصاف فراہم کرنے سے انکاری ہے بوڑھی عورت نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، آئی جی پنجاب پولیس ،انصاف کی اعلی عدالتوں ،صوبائی محتسب پنجاب ،ڈائریکٹر انٹی کرپشن پنجاب اور آرپی اوسرگودھاڈویژن سے اپیل کی ہے کہ اسے عمر کے اس حصہ میں دھکے کھانے سے بچایا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے




