
اسلام آباد…اصغر علی مبارک
سپورٹس ڈپلومیسی اہمیت حاصل کرتی جا رہی ہے،،کھلاڑی بہترین سفارت کار کا کردار ادا کر سکتے ہیں ان خیالات کا اظھار سینٹ میں قائد ایوان سنیٹر راجہ ظفر الحق نے قائد اعظم گیمز کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ کھیل کسی بھی قوم کی نہ صرف جسمانی اور ذہنی نشو ونما و ترقی کے غماز ہوتے ہیں بلکہ کھلاڑی موجودہ دور میں بہترین سفارت کاری کا کردار بھی ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں سپورٹس ڈپلومیسی وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ اہمیت حاصل کرتی جا رہی ہے اور جو کام پیشہ ور سفارت کاری کے ذریعہ مشکل نظر آتے ہیں انہیں سپورٹس ڈپلومیسی کے ذریعہ ممکن بنایا جا رہا ہے،یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں نے قومی پرچم دنیا کے مختلف ملکوں اور میدانوں میں بلند کیا ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے جبکہ آپریشن ضربِ عضب اور رد الفساد کی بدولت نہ صرف امن و امان میں تیزی سے بہتری آئی بلکہ کھیلوں کے میدان بھی پھر سے آباد ہو نا شروع ہو رہے ہیں جس کے لیے پوری قوم افواجِ پاکستان اور موجودہ حکومت مبارکباد کی مستحق ہے۔ سینٹ میں قائد ایوان سنیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ میرے لیے یہ بات انتہائی مسرت کا باعث ہے کہ کھیلوں کے میدان میں ملک کے اندر ایک نئے دور کا آغاز ہورہا ہے۔ قائدِ اعظم بین الصوبائی کھیلوں کا انعقاد اس حوالے سے ایک اہم قدم ہے جس میں ملک کے تمام صوبوں سمیت گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر، فاٹا اور وفاقی دارلحکومت سے چار ہزار کے لگ بھگ کھلاڑی اور کھیلوں سے وابستہ لوگ شرکت کر رہے ہیں۔سینٹ میں قائد ایوان سنیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ کھیلوں کے ان ملک گیر مقابلوں کے انعقاد پر وزارت بین الصوبائی رابطہ امور اور پاکستان سپورٹس بورڈ کو بالخصوص مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ سینٹ میں قائد ایوان سنیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات نے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کو سمجھتے ہوئے ملک کے اندر سپورٹس کلچر کو فروغ دینے کی خاطر کھیلوں کے اس پانچ سالہ منصوبہ کے لیے فنڈز مہیا کیے۔انہوں نے کہا کہ کھیل کسی بھی قوم کی نہ صرف جسمانی اور ذہنی نشو ونما و ترقی کے غماز ہوتے ہیں بلکہ کھلاڑی موجودہ دور میں بہترین سفارت کاری کا کردار بھی ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں سپورٹس ڈپلومیسی وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ اہمیت حاصل کرتی جا رہی ہے اور جو کام پیشہ ور سفارت کاری کے ذریعہ مشکل نظر آتے ہیں انہیں سپورٹس ڈپلومیسی کے ذریعہ ممکن بنایا جا رہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں نے قومی پرچم دنیا کے مختلف ملکوں اور میدانوں میں بلند کیا ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ ہمارے عظیم کھلاڑیوں نے کرکٹ، ہاکی، سنوکر ، باکسنگ اور خاص طور پر سکواش کے میدان میں شاندار روایات اور ریکارڈز قائم کیے ہیں۔ موجودہ حکومت انہی شاندار روایات کے رنگ اپنے حال اور مستقبل میں بھرنے کے لیے کوشاں ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ موجودہ جمہوری حکومت اس اہم قومی ذمہ داری کو پوری تندہی سے انجام دے گی جس سے پاکستان کا نام بین الا قوامی برادری میں ایک مرتبہ پھر نمایاں ہو کر سامنے آئیگا۔راجہ ظفر الحق نے کہا کہ یہ درست ہے کہ دنیا میں امن و امان کے مسائل نے جہاں کاروبارِ زندگی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے وہاں کھیل بھی ان برے اثرات کا شکار ہوئے ہیں خاص طور پر وطنِ عزیز میں بھی گزشتہ کچھ عرصہ سے حالات سازگار نہیں تھے لیکن آپریشن ضربِ عضب اور رد الفساد کی بدولت نہ صرف امن و امان میں تیزی سے بہتری آئی بلکہ کھیلوں کے میدان بھی پھر سے آباد ہو نا شروع ہو رہے ہیں جس کے لیے پوری قوم افواجِ پاکستان اور موجودہ حکومت مبارکباد کی مستحق ہے۔ میں یہ توقع رکھتا ہوں کہ حکومت کامیابیوں کا یہ سفر جاری رکھے گی تا کہ قوم کو جمہوریت کے ثمرات حاصل ہوسکیں۔سینٹ میں قائد ایوان سنیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ مجھے پوری امید ہے کہ ہمارے کھلاڑی بھی اپنی عظمتِ رفتہ کو دہراتے ہوئے دنیا کے ہر خطہ میں پھر سے سبز ہلالی پرچم بلند کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ امور میاں ریاض حسین پیرزادہ کو مبارکباد دینا چاہوں گا کہ انہوں نے چین جیسے ہر دلعزیز جیسے دوست ملک کے ساتھ سپورٹس ڈپلومیسی کا آغاز کرتے ہوئے حالیہ دنوں نوجوان کھلاڑیوں کا ایک وفد چائنہ بھیجا جو کہ پاک چین دوستی میں نئے خوشگوار رنگ بھرے گا۔ مجھے امید ہے کہ نوجوانوں کی سطح پر اس طرح کی کوششوں کو جاری رکھا جائیگا۔انہوں نے وزارت بین الصوبائی رابطہ امور، وزارتِ منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات، پاکستان سپورٹس بورڈ اور کھیلوں سے وابستہ قومی فیڈریشنز کو مبارکبار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تمام تر مشکلات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فیڈریشن کی تمام اکائیوں کو ایک جگہ اکھٹا کیا جو کہ قومی یکجہتی کی طرف ایک اہم پیشرفت ہے۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ نے کہا ہے کہ ہم نے فیڈریشن کی تمام اکائیوں کو وفاقی دارلحکومت میں ایک جھنڈے تلے جمع کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کھیل بلاشبہ قوموں کے اتحاد و یگانگت کے لیے نہ صرف بہترین ہتھیار ہیں بلکہ سماجی اور ثقافتی رشتوں کو مضبوط بنانے اور طبقاتی تفریق ختم کرنے کا ایک موثر ذریعہ بھی ہیں،ان گیمز میں پاکستان بھر سے کوئی چار ہزار کھلاڑی، کوچز اور مختلف سپورٹس آرگنائزیشنوں کے عہدیداران شریک ہیں جو کہ بیس(20) مختلف کھیلوں میں ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہوں گے جبکہ دنیا دہشت گردی کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہے لیکن اللہ کے فضل و کرم سے ہم تیزی کیساتھ اس دلدل سے نکل رہے ہیں، ایسے میں اپنے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کے لیے مواقع فراہم کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو میںآپ سب کو اسلام آباد میں خوش آمدید کہتا ہوں، میرے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ آج ہم نے فیڈریشن کی تمام اکائیوں کو وفاقی دارلحکومت میں ایک جھنڈے تلے جمع کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کھیل بلاشبہ قوموں کے اتحاد و یگانگت کے لیے نہ صرف بہترین ہتھیار ہیں بلکہ سماجی اور ثقافتی رشتوں کو مضبوط بنانے اور طبقاتی تفریق ختم کرنے کا ایک موثر ذریعہ بھی ہیں، وزارت کا قلم دان سنبھالنے کے بعد بین الصوبائی کھیلوں کا انعقاد میرا ایک ہدف تھا جو قائدِ اعظم بین الصوبائی کھیلوں کی صورت میں 2016 میں پورا ہوا جسکا دوسرے فیز کا افتتاح آج ہو رہا ہے جن میں پاکستان بھر سے کوئی چار ہزار کھلاڑی، کوچز اور مختلف سپورٹس آرگنائزیشنوں کے عہدیداران شریک ہیں جو کہ بیس(20) مختلف کھیلوں میں ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہوں گے۔ آپ کو یہ جان کر اور بھی زیادہ خوشی ہوگی کہ ان کھیلوں میں نہ صرف فیڈریشنز کی تمام اکائیاں بھرپور شرکت کر رہی ہیں بلکہ ان میں ہماری خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے جو کہ ہماری نوجوان نسل میں کھیلوں کے رحجان کی آئینہ دار ہے۔ ان کھیلوں کے انعقاد کو ممکن بنانے کے لیے مالی معاونت پر میں وزارتِ منصوبہ بندی ترقی واصلاحات کا بھی بے حد مشکور ہوں اور یہ قائدِ اعظم کا فرمان بھی ہے کہ ہمیں اپنی جسمانی فلاح کے حوالہ سے تعلیم کی طرف توجہ دینی چاہیے کیونکہ ایک صحت مند جسم سے ہی صحت مند دماغ کو جنم دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ جمہوری حکومت پوری یکسوئی کیساتھ ملکی حالات کو سنوارنے میں مصروفِ عمل ہے۔ اس محنت، دیانت اور لگن کے باعث امن و امان میں بہتری اور لوڈشیڈنگ جیسے عفریت پر قابو پانا ممکن ہوا، یہ کیسا اتفاق ہے کہ دنیا دہشت گردی کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہے لیکن اللہ کے فضل و کرم سے ہم تیزی کیساتھ اس دلدل سے نکل رہے ہیں، ایسے میں اپنے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کے لیے مواقع فراہم کرنا وقت کی اشد ضرورت تھی اس لیے موجودہ وزیرِ اعظم کی خاص دلچسپی کی وجہ سے یہ سب کچھ ممکن ہو رہا ہے۔ سرزمین بلوچستان میں کھیلوں کے میدان آباد کرنے کی مسلسل کوششیں جا ری ہیں ۔ جناب والا! بین الااقوامی مقابلوں میں اپنے کھلاڑیوں کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں سخت فیصلے کرنے پڑے علاوہ ازیں کھیل کے میدانوں کی رونقیں بحال کرنے کے لیے ہمیں سخت تنقید اور دباؤ کا بھی سامنا تھا مگر الحمد للہ آج ہم اس عظیم مقصد میں کامیاب ہوئے اور اس قومی ایونٹ میںآپ کی تشریف آوری اس بات کا بین ثبوت ہے۔ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ دہشت زدہ ماحول ختم کرنے کے لیے کھیل کے میدانوں میں بجنے والی تالیاں ہی سب سے موثر ہتھیار ثابت ہوتی ہیں پھر یہ کھیل ہی ہیں جن کے ذریعہ ہم کبھی روم اور کبھی سرزمینِ ھندوستان پر اپنا سبزہلالی پرچم لہرانے میں کامیاب ہوئے او راب ہم ایسی ہی کامیابیوں کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے جا رہے ہیں،یہ ایک مستند حقیقت ہے کہ کھیل امن کی علامت ہیں اور کھلاڑی اس کے پیامبر، ہم کھیلوں کے ذریعے امن و محبت کا یہ پیغام عام کرتے رہیں گے۔



