
پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ اپنے وسائل سے لڑی ،15 سال میں 120 بلین ڈالر خرچ کئے ،ہمارے اقدامات سے القاعدہ سمیت دیگر دہشت گرد گروپس کا خاتمہ ممکن ہوا ۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹ اور امریکی انتظامیہ کی طرف سے پاکستان کا نام واچ لسٹ میں ڈالنے پر دفتر خارنہ کا ردعمل سامنے آگیا ،جس میں کہا گیا ہے کہ ہم جنگ کو اپنے شہریوں اور خطے میں امن کے لئے جاری رکھیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نےمزیدکہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاک امریکی اتحاد درحقیقت امریکی قومی سلامتی کے مقاصد پورے کرتا ہے، پاک امریکاانسداد دہشت گردی تعاون کا فائدہ سب سے زیادہ امریکا اور عالمی برادری کو ہوا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ سیکیورٹی معاملات پر امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں،اس حوالے سے ان کے جواب اور تفصیلات کا انتظار ہے ۔
ان کا کہناتھاکہ دہشت گردی کے خلاف پاک امریکی اتحاد درحقیقت امریکی قومی سلامتی کے مقاصد پورے کرتا ہے، افغان میں امن افغان حکومت کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔
ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے،عالمی برادی کے تعاون کے بغیر خطے میں قیام امن ممکن نہیں،پاکستان نے پاک افغان سرحد پر بہترین بارڈر مینجمنٹ کا نظام متعارف کرایا۔




