اسلام آباد ہائی کورٹ نےامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے خلاف مقدمے کے اخراج کو کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی پولیس کی طرف سے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے اہلکاروں کے خلاف درج کیے جانے والے مقدمے کے اخراج کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی سربراہی میں عدالتِ عالیہ کے ایک بینچ نے اسلام آباد پولیس کے حکام کو ہی ملزمان کے خلاف تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق تھانہ سیکریٹیریٹ نے عدالتی حکم پر ہی مئی سنہ 2015 میں پاکستان میں سی آئی اے کے سٹیشن کمانڈر جوناتھن بینکس اور ڈرون حملوں کے بارے میں امریکی سی آئی اے کے قانونی مشیر جان اے ریزو کے خلاف قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

درخواست دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ 31 دسمبر سنہ 2009 کو امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں اس کا بھائی اور بیٹا ہلاک ہوگئے تھے اور یہ ڈرون حملہ مذکورہ ملزمان کے حکم پر کیا گیا تھا۔

اس درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت غیر قانونی اقدام پر پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی سرزنش کرسکتی ہے تو پھر امریکی سی آئی اے کے حکام کے خلاف غیر قانونی اقدامات پر کارروائی کیوں نہیں کی جاسکتی۔

عدالت نے اپنے حکم میں اسلام آباد پولیس سے کہا ہے کہ وہ ملزمان کے خلاف تفتیش مکمل کرے اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے۔

واضح رہے کہ تھانہ سیکرٹریٹ پولیس نے انسپکٹر جنرل آف پولیس کے حکم پر امریکی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ گذشتہ برس اس بنیاد پر خارج کر دیا تھا کہ یہ واقعہ ان کی حدود میں نہیں ہوا اس لیے اس کو خارج کر دیا جائے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے پولیس انسپکٹر نواز بھٹی کی سرزنش کی جب اُنھوں نے سنہ 2015 میں مقدمہ درج کرتے ہوئے یہ لکھا تھا کہ عدالت نے کہا ہے کہ امریکی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد بےشک اس کا اخراج کردیا جائے۔ مذکورہ پولیس اہلکار نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

خیال رہے کہ امریکہ کے سابق صدر براک اوباما کے دور میں امریکی ڈرون طیارے تواتر سے پاکستانی علاقے میں شدت پسندوں کو نشانہ بناتے رہے تھے۔ ان حملوں میں پاکستانی اور افغان طالبان کے سربراہان سمیت متعدد اہم کمانڈر بھی مارے گئے تاہم ساتھ ہی ساتھ شہری ہلاکتوں کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

امریکہ کے موجودہ صدر ٹرمپ کے اقتدار کے پہلے برس میں ان ڈرون حملوں میں خاصی کمی دیکھی گئی ہے اور سنہ 2017 میں پاکستانی علاقے میں صرف پانچ ڈرون حملے ہی ہوئے