ایسا پاکستان تشکیل دینا ہے جہاں ہر خاتون اور لڑکی صنفی تشدد سے آزاد زندگی گزارے،اعظم نذیر تارڑ
اسلام آباد(نیوزرپورٹر)خواتین کے خلاف صنفی تشد د کےخاتمے کا عالمی دن آج 25 نومبر بروز منگل کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جارہا ہے. خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا دن اور صنفی تشدد کے خاتمے کی 16 روزہ مہم کے حوالے سے وفاقی وزیرِ انسانی حقوق, سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اپنے پیغام میںکہا ہے کہ اس اہم دن کے موقع پر اور 16 روزہ تحریک کے آغاز پر، حکومتِ پاکستان خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہر قسم کے صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے اپنے مضبوط اور غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ صنفی تشدد ایک سنگین مسئلہ ہے جو خواتین کی عزتِ نفس، مساوی حقوق اور باوقار و مؤثر سماجی شرکت میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس کے تدارک کے لیے قومی سطح پر مسلسل توجہ اور تمام متعلقہ اداروں، کمیونٹیز اور شعبہ جات کا مشترکہ کردار ناگزیر ہے۔
ڈیجیٹل دور میں یہ ذمہ داری صرف روایتی سماجی ماحول تک محدود نہیں رہی۔ آن لائن ہراسانی اور ڈیجیٹل بدسلوکی بھی خواتین کی سماجی، معاشی اور عوامی زندگی میں محفوظ و بااعتماد شرکت کی راہ میں ایک سنجیدہ رکاوٹ ہے۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایسا ڈیجیٹل ماحول یقینی بنانا ضروری ہے جو باعزت، محفوظ اور جوابدہ ہو۔
حکومتِ پاکستان قانونی و تحفظاتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے، متاثرہ خواتین کو بہتر معاونت فراہم کرنے، اور سرکاری، نجی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا پاکستان تشکیل دینا ہے جہاں ہر خاتون اور لڑکی صنفی تشدد سے آزاد زندگی گزارے اور اپنی مکمل صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار لا سکے۔

