ٹوکیو کی اجارہ داری ختم،جکارتہ دنیا کا سب سے بڑا شہر بن گیا

دوسرا نمبر بھی گیاڈھاکہ بھی 3 کروڑ 70 لاکھ آباد ی کے ساتھ ٹوکیو سے آگے نکل گیا
آبادی کے لحاظ سے اب دنیا کے پہلے دو شہروںکا اعزاز ایشیاء کے دو مسلم ممالک کے پاس ہے
دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے 10 میں سے 9 شہر ایشیا میں ہیںقاہرہ اس فہرست میں شامل واحد ایسا شہر ہے جو ایشیا کا حصہ نہیں
1975 میں ایک کروڑ یا اس سے زائد آبادی والے شہروں کی تعداد محض 8 تھی جو اب بڑھ کر 33 ہوگئی ہے ان میں سے 19 شہر ایشیا میں موجود ہیں

اسلام آباد:جاپان کا دارالحکومت ٹوکیو جواب تک آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا شہر قرار جاتا تھا۔اب وہ پہلے سے تیسرے نمبر پر چلا گیا ہے۔ اب یہ اعزاز ایک مسلم ملک کے دارالحکومت نے اپنے نام کرلیا ہے۔اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتہ اب دنیا کا سب سے بڑا شہر بن گیا ہے جس کی آبادی 4 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
2000 میں ٹوکیو دنیا کا سب سے بڑا شہر بنا تھا مگر گزشتہ 25 برسوں کے دوران وہاں آبادی میں اضافے کی شرح گھٹ گئی اور اب وہ پہلے سے تیسرے نمبر پر چلا گیا ہے۔دوسرے نمبر پر بنگلادیش کا دارالحکومت ڈھاکا ہے جس کی آبادی 3 کروڑ 70 لاکھ ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے معاشیات و سماجی امور کے پاپولیشن ڈویژن کی رپورٹ میں اس بارے میں بتایا گیا۔ٹوکیو کی آبادی ابھی 3 کروڑ 30 لاکھ ہے جبکہ چوتھے اور 5 ویں نمبر پر بھارتی دارالحکومت نئی دہلی اور چین کا شہر شنگھائی ہے جن کی آبادی 3، 3 کروڑ ہے۔چین کا ہی ایک اور شہر گوانگزو چھٹے نمبر پر موجود ہے جس کی آبادی 2 کروڑ 80 لاکھ ہوچکی ہے۔مصر کا شہر قاہرہ 2 کروڑ 60 لاکھ آبادی کے ساتھ 7 ویں نمبر موجود ہے۔فلپائن کا شہر منیلا ڈھائی کروڑ آبادی کے ساتھ 8 ویں، بھارتی شہر کولکتہ 2 کروڑ 30 لاکھ آبادی کے ساتھ 9 ویں جبکہ جنوبی کوریا کا شہر سیئول 2 کروڑ 20 لاکھ آبادی کے ساتھ 10 ویں نمبر پر رہا۔
عالمی ادارے کے مطابق توقع ہے کہ 2050 تک ڈھاکا آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا شہر بن جائے گا جبکہ ٹوکیو کی آبادی اگلے 25 برسوں میں مزید گھٹ جائے گی۔تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے 10 میں سے 9 شہر ایشیا میں موجود ہیں اور قاہرہ اس فہرست میں شامل واحد ایسا شہر ہے جو ایشیا کا حصہ نہیں۔
جکارتہ میں بہت زیادہ آبادی بڑھ جانے کے باعث ٹریفک جام، فضائی آلودگی اور سیلاب جیسے مسائل کافی عام ہیں۔اسی وجہ سے انڈونیشین حکومت نے 2019 میں اعلان کیا گیا تھا کہ جاوا آئی لینڈ کے علاقے Borneo میں نیا دارالحکومت تعمیر کیا جائے گا۔مگر ابھی اس منصوبے پر کام جاری ہے اور سرمائے کی کمی کے باعث وہ تاخیر کا شکار ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا کی 8 ارب 20 کروڑ آبادی میں سے 45 فیصد افراد شہروں میں مقیم ہیں۔اسی طرح 1975 میں ایک کروڑ یا اس سے زائد آبادی والے شہروں کی تعداد محض 8 تھی جو اب بڑھ کر 33 ہوگئی ہے۔

ان میں سے 19 شہر ایشیا میں موجود ہیں۔