سرکل بکوٹ سے امید کی آواز، خانم جان فاؤنڈیشن کی خاموش جدوجہد

سرکل بکوٹ، ضلع ایبٹ آباد کا وہ خطہ ہے جسے اگر پسماندگی کی زندہ تصویر کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ یہ علاقہ نہ صرف ایبٹ آباد بلکہ پورے پاکستان کے اُن پسماندہ ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں بنیادی سہولتیں بھی خواب دکھائی دیتی ہیں۔ ٹوٹے پھوٹے راستے، کھنڈرات کا منظر پیش کرتی سڑکیں، پینے کے صاف پانی کا ناقص نظام اور سرکاری اداروں کی عدم توجہی اس خطے کی روزمرہ کہانی ہے۔ یہاں زندگی سہولتوں کے سہارے نہیں بلکہ مجبوریوں کے بوجھ تلے چلتی ہے۔
سرکل بکوٹ میں صحت کے حالات تو اس سے بھی زیادہ دل خراش ہیں۔ بیسک ہیلتھ یونٹس اپنی عمارتوں کے باوجود اکثر بے روح ڈھانچوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جہاں نہ مناسب عملہ دستیاب ہے، نہ ادویات، اور نہ ہی تشخیص کا کوئی مؤثر نظام۔ ایک وسیع و عریض پہاڑی علاقہ، درجنوں دیہات، ہزاروں نفوس مگر علاج معالجہ کے لیے مقامی سطح پر کوئی قابلِ بھروسا سہولت موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کا مریض معمولی بیماری میں بھی مظفرآباد، ایبٹ آباد، راولپنڈی یا اسلام آباد کا رخ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ ہجرتِ علاج خود اس خطے کی پسماندگی کا سب سے بڑا اور تلخ ثبوت ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ایک کمزور بوڑھا، ایک حاملہ عورت یا ایک بیمار بچہ پہاڑی راستوں، ٹوٹے روڈ اور محدود وسائل کے ساتھ سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنے پر مجبور ہو، تو یہ محض ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے نظام پر ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ سرکل بکوٹ کے عوام برسوں سے اسی کرب کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جہاں بیماری صرف جسمانی تکلیف نہیں بلکہ مالی اور ذہنی عذاب بھی بن جاتی ہے۔
ایسے اندھیروں میں اگر کہیں روشنی کی ایک کرن نظر آتی ہے تو وہ خانم جان فاؤنڈیشن بکوٹ ایبٹ آباد کی صورت میں ہے۔ اس فاؤنڈیشن نے پسماندہ علاقوں میں ہسپتال کی بنیاد رکھ کر نہ صرف ایک سہولت فراہم کی بلکہ ایک امید کو جنم دیا۔ بکوٹ جیسے نظر انداز شدہ علاقے میں ہسپتال کا قیام اس بات کا عملی اعلان ہے کہ اگر نیت صاف ہو تو وسائل کی کمی بھی راستہ نہیں روک سکتی۔
خانم جان فاؤنڈیشن کی انفرادیت اس بات میں ہے کہ اسے بکوٹ کے چند باہمت، دردِ دل رکھنے والے اور باکردار معززین اپنے ذاتی وسائل سے چلا رہے ہیں۔ نہ سرکاری سرپرستی، نہ بڑے دعوے، نہ تشہیری مہم صرف خلوص، قربانی اور خدمت کا جذبہ۔ یہ حضرات نہ صرف اپنی جمع پونجی بلکہ اپنا وقت، توانائی اور سکون بھی اس مشن کے لیے وقف کر چکے ہیں، تاکہ اس خطے کے لوگ عزت کے ساتھ علاج حاصل کر سکیں۔
یہی وجہ ہے کہ خانم جان فاؤنڈیشن آج صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ سرکل بکوٹ کے عوام کے لیے سہارا، اعتماد اور وقار کی علامت بن چکی ہے۔ یہاں مریض کو محض ایک نمبر نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کے درد کو محسوس کیا جاتا ہے۔ یہ رویہ ہی دراصل حقیقی خدمتِ خلق کی بنیاد ہے۔
اسی خدمت کے تسلسل میں علی آباد میں منعقد ہونے والا میڈیکل کیمپ اس وسیع تر وژن کی ایک جھلک ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ فاؤنڈیشن صحت کی سہولتیں لوگوں تک لے جانے پر یقین رکھتی ہے۔ ادارے کا ارادہ ہے کہ علی آباد اور اس کے ملحقہ پسماندہ دیہاتوں میں آئندہ بھی مزید میڈیکل کیمپنگ کی جائے تاکہ غریب اور نادار افراد کو ان کی دہلیز پر علاج میسر آ سکے۔ اس خدمت کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے مالی وسائل اور مخیر حضرات کا تعاون ناگزیر ہے، کیونکہ ایسے علاقوں میں خدمت کا چراغ اجتماعی سہارے کے بغیر روشن نہیں رہ سکتا۔
یہ دعا دل سے نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ خانم جان فاؤنڈیشن کے منتظمین، معاونین، ڈاکٹروں اور رضاکاروں کے اخلاص کو قبول فرمائے، ان کی کاوشوں میں برکت عطا کرے اور یہ ادارہ سرکل بکوٹ جیسے محروم علاقوں میں امید، شفا اور زندگی کا پیغام اسی استقامت کے ساتھ پھیلاتا رہے۔ یقیناً یہی خاموش خدمت تاریخ میں زندہ رہتی ہے اور یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو شکست دیتی ہے۔