متحدہ عرب امارات نے بڑا پن دکھاتے ہوئے خطے کو کشیدگی سے بچا لیا

یمن میں ملٹری آپریشن بند کرنے اور اپنے فوجی یونٹس واپس بلانے کا اعلان کردیا
قبل ازیں دونوں ممالک آمنے سامنے آگئے تھے

اسلام آباد(محمدرضوان ملک)متحدہ عرب امارات کے بڑے پن نے خطے کو کشیدگی سے بچا لیا ہے۔ سعودی عرب کے سخت ردعمل کے بعد متحدہ عرب امارات نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے یمن میں اپنی باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے جس سے خطے میں بڑھتی کشیدگی کا خطرہ ختم ہو گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم یمن میں انسداد دہشت گردی کیلیے جاری اپنے باقی ماندہ آپریشن فوری طور پر ختم کررہے ہیں۔امارات کے بڑے پن، بروقت اور درست فیصلے کے بعدخطہ ایک بڑے کشیدگی سے بچ گیا ہے۔
قبل ازیں دونوں جانب سے سخت اقدامات اور بیانات کے باعث خطے میں کشیدگی بہت بڑھ گئی تھی۔جب سعودی قیادت میں قائم ملٹری اتحاد نے یمن میں محدود فضائی کارروائی کی، جس میں مکلا بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا۔
سعودی اتحاد کے مطابق یہ کارروائی یو اے ای کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسند تنظیم، سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC)کو فراہم کی جانے والی غیر ملکی فوجی معاونت کے خلاف کی گئی۔بعد ازاں سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بھی کہا گیا تھا کہ یو اے ای یمنی حکومت کے مطالبے کے مطابق 24 گھنٹے میں اپنی فوج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت کا عمل فوری بندکرے۔
اس پر امارات کی جانب سے درعمل میں کہا تھا کہ یمن سے متعلق تمام الزامات مسترد کرتے ہیں اور سعودی عرب کے بیان سے مایوسی ہوئی ہے۔
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یمنی حکومت کے مطالبے کے مطابق 24 گھنٹے میں اپنی فوج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت کا عمل فوری بند کرے۔سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یمن کے امن کے لیے مذاکرات ہی واحد حل ہیں، یواے ای کا یمنی جنوبی عبوری کونسل پر دبا وڈال کرکارروائیوں پر آمادہ کرنا افسوسناک ہے، یہ اقدام ہماری قومی سلامتی اورجمہوریہ یمن کے امن سمیت پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔سعودی عرب کے اس بیان پر یو اے ای کی جانب سے ردعمل سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ سعودی عرب کے بیان سے مایوسی ہوئی ہے، یمن سے متعلق تمام الزامات مسترد کرتے ہیں۔یو اے ای کا کہنا ہے کہ مکلا بندرگاہ پر لنگرانداز ہونے والے جہازوں پر اسلحہ نہیں تھا، بندرگاہ پر جہاز یمنی گروپ کے لیے نہیں اماراتی فورسز کے لیے تھے، یمن میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے ذمہ داری سے نمٹنا چاہیے۔یو اے ای کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن کی حالیہ صورتحال کو مزید کشیدہ نہیں ہونے دینا چاہیے، سعودی اتحادی فورسز کا یمن میں حملہ حیران کن تھا۔
تاہم امارات نے بڑا پن دکھاتے ہوئے یمن میں ملٹری آپریشن بند کرنے اور اپنے فوجی یونٹس واپس بلانے کا اعلان کردیاجس سے خطہ ایک بڑی کشیدگی سے بچ گیا۔
قبل ازیں عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن کی صدارتی کونسل کی جانب سے امارات کو کہا گیا کہ یمن میں موجود یو اے ای کی تمام فورسز کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنا ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یمن کی تمام بندرگاہوں اور زمینی و بحری گزرگاہوں پر 72 گھنٹوں کے لیے مکمل فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی نافذ کی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن کی صدارتی کونسل کی جانب سے یہ احکامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی قیادت میں قائم ملٹری اتحاد نے یمن میں محدود فضائی کارروائی کی، جس میں مکلا بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی یونٹس کی واپسی رضاکارانہ بنیادوں پر اور شراکت داروں کے ساتھ مکمل رابطے اور تعاون سے عمل میں لائی جائے گی۔وزارت دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ وہاں موجود اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کو ممکن بنانا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ حالیہ پیش رفت اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں ایک جامع جائزے کے بعد کیا گیا۔اماراتی وزارت دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یمن میں متحدہ عرب امارات کی براہِ راست فوجی موجودگی بھی پہلے ہی 2019 میں ختم ہوچکی تھی۔اماراتی وزارت دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام خطے میں امن و استحکام کے لیے یو اے ای کے دیرینہ عزم کے مطابق ہے۔وزارت دفاع کے بیان میں واضح کیا گیا کہ یو اے ای 2015 سے عرب اتحاد کے تحت یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 2019 میں طے شدہ اہداف مکمل ہونے کے بعد اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کے بعد سے صرف محدود اور خصوصی ٹیمیں انسدادِ دہشت گردی کے لیے موجود تھیں، جو اب واپس بلائی جا رہی ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای کے بیٹوں نے یمن میں امن اور استحکام کے مقاصد کے حصول کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے یمن کی بندرگاہ پر مبینہ اسلحہ بردار گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔سعودی عرب نے موقف اختیار کیا کہ متحدہ عرب امارات یمن کے جنوبی علاقے میں علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور مالی تعاون فراہم کر رہے ہے۔تاہم متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بیان کو مایوس کن قرار دیا تھا۔
اس سے قبل یمن کی بین الااقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے حکمراں نے بھی متحدہ عرب امارات کو 24 گھنٹوں کے اندر یمن چھوڑنے کا کہا تھا۔
یاد رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات 2015 میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک ہی عرب اتحاد کا حصہ بنے تھے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کی ترجیحات مختلف ہوتی چلی گئیں۔سعودی عرب یمن کی وحدت، مرکزی حکومت اور سیاسی حل پر زور دیتا رہا ہے جب کہ یو اے ای نے جنوبی یمن میں سیکیورٹی، بندرگاہوں اور انسدادِ دہشت گردی پر توجہ مرکوز رکھی اور سدرن ٹرانزیشنل کونسل سے قربت اختیار کی۔
2019 میں یو اے ای کی فوجی واپسی کے بعد یہ اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے جبکہ حالیہ مکلا واقعے اور بیانات نے دونوں اتحادیوں کے درمیان تنا ئوکو مزید نمایاں کر دیا تھا۔