سپین میں‌ رہائش پذیر پاکستانیوں کی سنی گئی

سپینش ریذیڈنٹ کارڈ سے متعلق اعلی سطح کا خصوصی اجلاس۔ اہم فیصلے
‎درخواست گزاروں کی آسانی کے لیے تصدیق کے عمل کو آسان اور برق رفتار بنایا جائے
‎درخواست گزاروں کو ہر سطح پر مکمل سہولت فراہم کی جائے۔ محسن نقوی ، ‎ہزاروں پاکستانیوں کو لیگل سٹیٹس ملنا خوش آئند ہے۔سالک حسین

اسلام آباد(نیوزرپورٹر)سپین میں رہائش پذیر پاکستانیوں کی سنی گئی ہیں اوراس حوالے سے ‎درخواست گزاروں کی آسانی کے لیے تصدیق کے عمل کو آسان اور برق رفتار بنایا جائے گا. وزارتِ خارجہ کی جانب سے بھی سپینش ریذیڈنٹ کارڈ کے عمل کو مکمل سپورٹ کی یقین دہانی کرائی گئی ہے.
سپینش ریذیڈنٹ کارڈ سے متعلق اعلی سطح کے خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز سالک حسین نے اجلاس کی صدارت کی۔‎ اجلاس میں وزارت داخلہ کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو قانونی تحفظ اور سہولتوں کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔‎
وزارتِ خارجہ کی جانب سے سپینش ریذیڈنٹ کارڈ کے عمل کو مکمل سپورٹ کی یقین دہانی کرائی گئی۔سپین میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر ظہور احمد نے سپینش ریذیڈنٹ کارڈ بارے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا کہ ‎یہ پالیسی سیاسی پناہ   حاصل کرنے والوں کیلئے نہیں ہے۔‎کریکٹر سرٹیفکیٹ اور دیگر مطلوبہ دستاویزات کی فراہمی لازمی قرار دی گئی ہے۔‎اہل افراد کو ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے ریذیڈنٹ کارڈ جاری کیا جائے گا۔‎ سات سے آٹھ سال مکمل کرنے پر مستقل رہائش اور شہریت کا راستہ ہموار ہوگا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ‎دستاویزات کی تصدیق کے عمل کو تیز کیا جائے گا تاکہ درخواست گزاروں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔الگ الگ کریکٹر سرٹیفکیٹ قابلِ قبول نہیں، نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے ایک ہی قومی کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری ہوگا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ‎درخواست گزاروں کی آسانی کے لیے تصدیق کے عمل کو آسان اور برق رفتار بنایا جائے۔‎درخواست گزاروں کو ہر سطح پر مکمل سہولت فراہم کی جائے۔ وزیر اوورسیز پاکستانیز سالک حسین نے کہا کہ ‎ہزاروں پاکستانیوں کو لیگل سٹیٹس ملنا خوش آئند ہے۔
سپین میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر ظہور احمد، قونصل جنرل بارسلونا اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشی نے بذریعہ زوم اجلاس میں شرکت کی۔‎اجلاس میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری۔سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری اوورسیز پاکستانیز، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، چیئرمین نادرا، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی پاسپورٹس، سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔