آپریشن غضب للحق جاری طالبان رجیم کے 331 اہلکار ہلاک 500 سے زائد زخمی

163 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ ،افغانستان کی 104 چوکیاں مکمل طو ر پر تباہ جبکہ 22 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں آگئی ہیں
پاکستان بالکل ٹھیک کر رہا ہے ، پاکستان کے پاس عظیم وزیراعظم اور عظیم جنرل ہیں جو میرے دوست بھی ہیں، ٹرمپ ، امریکی محکمہ خارجہ نے بھی پاکستان کی حمایت کردی
اب تک پاک فوج کے 12 سپاہی شہید اور 27 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاپتہ ہے، آپریشن غضب للحق مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا، پاکستانی فورسز
مذاکرات سے مسائل کا حل چاہتے ہیں ذبیع اللہ مجاہد ،افغان وزیر خارجہ کا اپنے قطری اور سعودی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ ،دوست ممالک کا بھی معاملہ مذاکرات سے حل کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد(نیوزرپورٹر)پاک فوج کے آپریشن غضب للحق کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق اب تک جھڑپوں میں طالبان رجیم کے 331 اہلکار ہلاک 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں. ۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کے 37 مقامات پر فضائی کاروائی کی گئی 163 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کر دی گئی ہیں۔53 مقامات پر افغانستان کے حملے پسپا کر دئیے گئے ہیں۔ ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، طالبان حکومت کے ترجمان نے کابل، پکتیا اور قندھارپربمباری کی تصدیق کردی ہے۔ افغانستان کی 104 چوکیاں مکمل طو ر پر تباہ کر دی گئی ہیں جبکہ 22 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں آگئی ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان جھڑپوں میں اب تک پاک فوج کے 12 سپاہی شہید اور 27 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاپتہ ہے۔
ٹرمپ نے بھی پاکستان کی حمایت کر دی ہے ۔صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان جو کر رہا ہے وہ ٹھیک کر رہا ہے۔ پاکستان کے پاس ایک عظیم وزیراعظم اور عظیم جنرل ہیں جو میرے دوست ہے پاکستان جو کر رہا ہے وہ بالکل ٹھیک کر رہا ہے ۔پاکستان کے پاس عظیم قیادت ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ پاکستانی اقدام کی حمایت کرتے ہیں پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
دوسری طرف اب افغانستان مذاکرات پر آمادہ ہے اور ذبیع اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ پہلے بھی امن کے لئے مذاکرات کے حامی تھے اور اب بھی بات چیت کے ذریعے معاملے کا پرامن حل چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں افغان وزیر خارجہ نے قطر اور سعودی ہم منصب سے بھی ٹیلی فونک گفتگو کی ہے۔
پاکستانی فورسز نے واضح کیا ہے کہ آپریشن غضب للحق مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا۔ فورسز افغان طالبان رجیم کے فوجی اہداف کو نشانہ بنارہی ہیں۔ پاک فوج نے قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں افغان طالبان کی اعلی جرگہ تھانااور رحیم تھانا پوسٹ تباہ کردی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقا نی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے دشمن کو بیشک اپنے گھر بسائیں لیکن انکے ساتھ ملکر ہمارے ساتھ دشمن کا کردار نہ ادا کریں۔خواجہ آصف نے کہا آپ نے ہمارے قاتلوں کو پناہ دی۔ آپ ہمارے گلی محلوں کو خون سے رنگین کرنے والوں کے حلیف بنے،کابل میں آپ سے ملاقائی ہوئی، درخواست کی دشمنوں کے حلیف نہ بنیں، اعانت نہ کریں ۔آپ نے رقم ما نگی ہم وہ بھی دینے کو تیار تھے مگر ضمانت کوئی نہیں تھی۔خواجہ آصف نے کہا جس نسبت سے آپکو حقانی پکارا جاتا ہے وہ بہت عظیم بزرگ تھے، اس نام کی لاج رکھیں، اپنی سر زمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ روایت ، ثقافت اور دین سکھاتا ہے جس گھر میں پناہ لی ہو اسکی خیر مانگتے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔مسلح افواج ملکی سلامتی کے لیے ہر محاذ پر دشمن کونیست نابود کررہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک افغان جنگ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ بہت اچھا کررہا ہے ، میں مداخلت نہیں کروں گا۔صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا آپ پاکستان اور افغانستان جنگ میں مداخلت کریں گے؟جس پر امریکی صدر نے جواب دیا کہ میں کرتا لیکن آپ جانتے ہیں، میرے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ پاکستان بہت ہی شاندار طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے، پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھا کررہا ہے ، میں مداخلت نہیں کروں گا۔امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے پاس عظیم وزیراعظم اور جنرل ہیں ، عظیم قیادت ہے ، یہ وہ 2 شخصیات ہیں جن کی میں واقعی بہت زیادہ عزت کرتا ہوں۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج مثر جواب دے رہی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے زئوبا سیکٹر میں افغان گالف پوسٹ کو مثر حملے سے تباہ کردیا، پاک فوج نے زئوبا سیکٹر ساوتھ کمپلیکس کے قریب افغان طالبان کی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن کی تازہ ترین تفصیلات جاری کردیں۔اپنے بیان میں عطا تارڑ کا کہناتھاکہ اب تک کی اپڈیٹس کے مطابق آپریشن میں افغان طالبان رجیم کے 331 کارندے ہلاک اور 500 سے زائد کارندے زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی 104 چیک پوسٹیں تباہ کردی گئیں اور 22چیک پوسٹوں پر قبضہ کرلیا گیا جبکہ افغان طالبان کی 163 مسلح گاڑیاں اور ٹینک تباہ کردیے گئے۔
ان کا کہنا تھاکہ افغانستان میں 37 مقامات کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔
افغانستان کے وزیرخارجہ کا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور اور سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیاہے۔قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کے نگراں وزیر خارجہ مولوی امیرمتقی نے قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔وزارت خارجہ قطر کے مطابق ٹیلی فونک رابطے میں پاک افغان کشیدگی کم کرنے کے طریقوں، خطے میں امن اور استحکام کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔