اطالوی سفارتخانے کے کرپٹ ملازمین اور چٹھ بختا ور کے گدھ نما ایجنٹس کا نیٹ ورک توڑ پائیں گے
اٹالین سفارتخانے میں موجود اپوائٹمنٹس کے لنڈا بازار کا خاتمہ کئے بغیر ان ویزوں سے استفادہ ممکن نہ ہوگا
اسلام آباد(اسرار احمد راجپوت )حال ہی میںوزیر داخلہ محسن نقوی کی کوششوں سے اٹلی حکومت نے پاکستانیوں کو ساڑھے دس ہزار ورک ویزے دینے کا اعلان کیا ہے. لیکن ہنر مند پاکستانیوں لیے ساڑھے دس ہزار اٹالین ورک ویزہ کے اعلان ساتھ ہی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کڑا امتحان شروع۔ ہو گیا ہے. کیا وہ چٹھہ بختاور میں موجود انسانی گدھ نما ایجنٹس و ڈپلو میٹک انکلیو میں موجود کرپٹ ملازمین مابین “اپواہنٹمنٹس لنڈا بازار” ختم کر پاہیں گے؟
اس سے قبل اٹلی 2025 میں ایک خوفناک قسم کا فیک ورک ویزہ سکینڈل پکڑا جاچکا ہے جس میں درجنوں پاکستانیوں کو دھوکہ دیا گیا اور مجبورا اٹالین حکومت کو یہ سب ورک پرمٹس منسوخ کرنے پڑے .اس وقت بطور صحافی (کرائم رپورٹر) میرے زہن میں ایک بڑا سوال اُٹھ رہا کہ کیا وزیر داخلہ محسن نقوی اٹلی کی جانب سے ہنر مند پاکستانیوں لیے ساڑھے دس ہزار ویزوں کے اجراء کے پراسسس کو اٹلی و پاکستان میں موجود ایجنٹ مافیاز (انسانی سمگلرز) سے بچا پائیں گے ؟
میں یہ سوال اس لیے کر رہا کہ بہت سے پاکستانی شہریوں کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ جب آپ کو یورپ کے کسی ملک میں ورک ویزہ جاری ہوتا ہے تو میرے ناقص علم کے مطابق وہاں کی منسٹری آف ورک اس ورک پرمنٹ کی فیس 170 یوروز چارج کرتی جو پاکستانی کرنسی میں 56100 روپے بنتے ہیں اور یہ ورک پرمٹ یورپ کا ہر ملک کمپنی کو اس کی ماہانہ آمدن اور اس ملک کے فنانس ڈیپارٹمنٹ کو جمع کروائے گئے فی کس ورکز ٹیکس کا جائزہ لے کر جاری کیا جاتا ہے. مگر کیا کیا جائے دولت کے پجاریوں و ہوس کے مارے پاکستانی ایجینٹس و مافیاز کا جو اس 170 یوروز کے عوض جاری ہونے والے ورک پرمٹ کو Sicily اٹلی ودیگر مقامات پر موجود ایجنٹ مافیاز کے ہاتھوں 6000 سے 7000 یوروز میں فی پرمٹ سیل کرتے ہیں اور پھر یہ ورک پرمٹ پاکستان پہنچ کر 15000 سے 20000 یوروز یا اگر داؤ لگ جائے تو 22 سے 25000 یوروز تک بکتا ہے یعنی پاکستان سے کسی بھی ہنر مند یا عام شہری کو اٹلی جانے لیے 66 لاکھ روپے سے لے کر 82 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرنے ہوتے اور وہ تب جاکر اٹلی پہنچ پاتا اور permesso di soggiorno (residence permit) مل پاتا
لیکن 2025 میں اٹالین گورنمنٹ و خفیہ ادارے اس وقت سکتہ میں آ گئے جب انکو پاکستانی انسانی سمگلرز/ایجنٹ مافیاز کی ملکی بھگت سے حاصل کیے گئے سینکڑوں ورک پرمٹس بارے اطلاع ملی .
ہوا کچھ یوں کہ اٹالین بزنس مینز و دیگر لینڈ لارڈز/کمپنیزکے پاس موجود پاکستانی ملازمین نے ان کے علم میں لائے بغیر جعلی طریقے سے کمپنیز کے کاغذات تیار کروا کر منسٹری آف لیبر اینڈ سوشل پالیسیز سے سینکڑوں کی تعداد میں ورک پرمٹس جاری کروائے اور یہ ورک پرمٹ اٹلی میں موجود مافیاز کے ہاتھوں بکتے ہوئے پاکستان پہنچے اور پھر یہاں سے سینکڑوں افراد اٹلی پہنچ گئے بھاری بھرکم رقوم میں یہ ورک پرمٹس خرید کر اور جب وہاں پہنچ گئے تو ورک پرمٹس میں درج کمپنیز نے انہیں کنٹریکٹس دینے سے انکار کر دیا تو بات کھل گئی اور اٹالین حکومت کو یہ ورک پرمٹس منسوخ کرنا پڑے .
اور ان سب چیزوں سے بھی بڑی اور خوفناک چیز یعنی بدروح جس نے اسلام آباد میں ڈپلو میٹک انکلیو میں موجود اٹالین ایمبیسی پر اپنا کالا سیاہ بدبودار سایہ کر رکھا وہ ہے اٹلی سے جاری ان ورک پرمٹس کو پاکستان میں ساری ریکوائرمنٹس پوری کرکے اٹالین ایمبیسی اسلام آباد میں جمع کروانے لیے اپوائنٹمنٹ لینا جوکہ آج کی تاریخ میں ناممکن ہوچکا ہے.
اسلام آباد کے بدنام زمانہ علاقہ چھٹہ بختاور میں انسانوں کے روپ میں موجود گدھ خون خوار بھیڑیے یعنی ایجنٹس و ویزہ کنسلٹنٹس اور اٹالین ایمبیسی اسلام آباد کے اندر ملازمین کا گٹھ جوڑ بھی وزیر داخلہ محسن نقوی کے لیے بڑا چیلینج ثابت ہوگا کیونکہ یہ مافیاز ایک ورک پرمٹ کی اپوائنٹمنٹس کے لیے پانچ سے نو لاکھ روپے چارج کر رہے ہیں جس کا آج تک کوئی خفیہ ادارہ، منسٹری آف فارن افیئرز، منسٹری آف انٹیرئیر و ایف آئی اے توڑ نہ کرسکی کہ سب “کھنڈ کھاؤ تے ونڈ کھاؤ” کے فارمولا پر عمل پیرا ہیں
تو ایسے میں میں سمجھتا کہ پاکستان میں موجود ہنر مند افراد (جو کہ غریب ہیں اور ان کی کوئی سفارش نہیں) اس ساڑھے دس ہزار اٹالین ورک ویزہ سے مستفید نہ ہوسکیں گے اور آخر میں اٹلی و پاکستان میں موجود انسانی سمگلرز، چٹھہ بختاور و ڈپلو میٹک انکلیو میں موجود اٹالین ایمبیسی کے اندر موجود کرپٹ ملازمین اربوں کی دیہاڑی لگا کر ان پڑھ و غیر ہنر یافتہ افراد کو اٹلی بھیجنے میں کامیاب ہوں گے-




