امریکہ ایران جنگ دنیا کے جذبات سے کھیلنے کا سلسلہ جاری

صدر ٹرمپ نے حملے پانچ دن کےلئے روکن کا اعلان کیا سینٹ کام نے اس پر عمل نہ کیا
ایران نے جنگ بندی کی تردید کرتے ہوئے اسے ٹرمپ کی تیل کی قیمتیں کنٹرول کرنے کی چال قراردیا
جنگ بندی کے لئے ایران نے چھ شرائط پیش کر دیں،آنکھ کے بدلے سر لیں گے،ایرانی روحانی پیشوا مشیر

اسلام آباد(رپورٹ : محمد رضوان ملک) ۲۳ مارچ کی رات نے دنیا کو خلیج میں جاری جنگ بندی کے حوالےسے کچھ امید دلائی لیکن یہ سب خوشیاں جلد ہی ماند پڑھ گئیں اور آخری خبریں آنے تک امریکہ کے نہ صرف ایران پر حملے اسی شدت سے جاری تھے بلکہ ایران کی جانب سے بھی اسرائیلی اہداف پر جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ معمولی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب تئیس مارچ کو صدر ٹرمپ کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ وہ پانچ دنوں تک ایران پر حملے روک رہے ہیں جس سے نہ صرف تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی بلکہ سٹاک مارکیٹس میں کاروبار کا رجحان کافی مثبت ہوگیا۔لیکن دنیا کی یہ خوشی اس وقت عارضی ثابت ہوئی جب ٹرمپ نے تو جنگ بندی کا اعلان کیا لیکن سینٹ کام نے ایران پر نہ صرف جملے جاری رکھنے کا اعلان کردیا بلکہ ایران پر تواتر سے بمباری جاری رکھی۔گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ 2 روز میں ایران کیساتھ اچھی اور تعمیری بات چیت ہوئی،ایران کیساتھ مذاکرات پورا ہفتہ جاری رہیں گے،ایران پر حملے ملتوی رہنےکا انحصار ایران کے ساتھ جاری بات چیت کی کامیابی پر ہوگا۔ساتھی ہی انہوں نے دنیا کو یہ خوشخبری بھی سنائی کہ ایران کے ساتھ 5 یا اس سے بھی کم دنوں میں معاہدہ ہو سکتا ہے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران بہت بری طرح سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہمارے مضبوط مذاکرات ہوئے ہیں،دیکھیں گے کہ یہ مذاکرات کس سمت جاتے ہیں،اہم نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے،وٹکوف اور کشنر نے ایرانی حکام سے مذاکرات کیے ہیں،اگر ان مذاکرات پر عملدرآمد ہوا تو یہ تنازع ختم ہو جائے گا۔
اتوار کو شام تک بات چیت جاری رہی، وہ بھی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور ہم بھی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں ،غالباً آج فون پر بات چیت ہوگی،جلد ملاقات کی امید ہے،امید ہے یہ معاملہ حل ہو جائے گا ،امریکا نے ایران کے اعلیٰ ترین معتبر رہنما سے بات کی ہے۔
لیکن دنیا کی یہ ساری امیدیں اور خوشیاں اس وقت ماند پڑھ گئیں جب ایران نے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کر دی ۔ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر
محمد باقرنے واضح کیا ہے کہ امریکا سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی،عوام چاہتے ہیں دشمن کو ایران پر جارحیت کی سبق آموز اور مکمل سزا دی جائے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جعلی خبروں کے ذریعے تیل کی منڈی پر اثر ڈالا گیا،ایرانی حکومت سپریم لیڈر اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ کچھ دوست ممالک کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے ، امریکا نے جنگ ختم کرنے کیلئے مذاکرات کی درخواست کی تھی۔
ایران نے پیغامات کا مناسب اور اصولی مؤقف کے مطابق جواب دیا،آبنائے ہرمز اور جنگ کے خاتمے کی شرائط پر مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے کے ہولناک نتائج ہوں گے۔ ایک اہلکار نے نام ظاہر کیے بغیر ایرانی میڈیا کو بتایا کہ علاقائی پارٹیوں اور ثالثوں نے ایران کو تجاویز پیش کی ہیں کہ جنگ روکی جائے۔
اہلکار نے نئے قانونی اسٹریٹجک فریم ورک کے تحت چھ شرائط بتائیں جن میں سے اولین جنگ دوبارہ نہ شروع ہونے کی یقین دہانی ہے۔
دوسری خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بند کیا جانا ہے، تیسری جارح کو پیچھے دھکیلنا اور ایران کو ہرجانے کی ادائیگی ہے۔
چوتھے تمام علاقائی فرنٹس پر جنگ کو ختم کیا جانا ہے، پانچویں آبنائے ہرمز کیلیے نئے قانونی رجیم پر عمل درآمد کیا جانا ہے اور چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا آپریٹیوز کیخلاف قانونی کارروائی اور انہیں ملک بدر کرنا ہے۔
یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ شرائط کن ثالثوں کے ذریعے امریکا اور اسرائیل کو پیش کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سکیورٹی و سیاسی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی شرائط کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے، ایرانی میڈیا نے ایک سکیورٹی و سیاسی اہلکار کے حوالے سے نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ مہینوں پہلے سے طے حکمت عملی کو اسٹریٹجک تحمل کے ساتھ قدم بہ قدم آگے بڑھا رہا ہے۔
دشمن کا فضائی دفاعی نظام تباہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایران اب دشمن کی فضاؤں پر مکمل قابو حاصل کیے ہوئے ہے، اس صورتحال میں ایران جنگ بندی کے فوری امکانات نہیں دیکھ رہا۔