ملک میں خوراک کا ضیاع اور خوراک کی قلت دونوں کی صورتحال بہت پیچیدہ ہے
ہ دنیا بھر میں سالانہ 1.3 بلین ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے، جو خوراک کی عالمی پیداوار کے تقریباﹰ ایک تہائی کے برابر ہے
اسلام آباد:اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام ک 2024 کے لیے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک پاکستان دنیا بھر میں خوراک کے مجموعی ضیاع کے حوالے سے چوتھے جبکہ فی کس سالانہ بنیادوں پر دوسرے نمبر پر ہے۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں سالانہ 1.3 بلین ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے، جو کہ خوراک کی عالمی پیداوار کے تقریباﹰ ایک تہائی کے برابر ہے۔ ایسے میں اقتصادی مشکلات اور غربت کے شکار ملک پاکستان کا فی کس سالانہ بنیادوں پر خوراک کے ضیاع کے حوالے سے پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر ہونا باعث تشویش ہے۔
اقوام متحدہ کے اس ڈیٹا کو اگر پاکستانی عوام میں غربت کے تناسب کے پس منظر میں دیکھا جائے، تو صورت حال اور بھی تشویش ناک محسوس ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اسی سال فروری میں پاکستانی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ایک پریس کانفرنس میں تازہ ترین ملکی اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں غربت کی شر ح 29 فیصد تک پہنچ چکی ہے، یعنی 60 ملین سے زائد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے رہتے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں۔
ملک میں خوراک کا ضیاع اور خوراک کی قلت دونوں کی صورتحال بہت پیچیدہ ہے، خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ بھوک کے عالمی انڈکس میں 123 ممالک میں پاکستان کا نمبر 106 ہے، جو ”انتہائی سنجیدہ صورتحال‘‘ کی عکاسی کرتا ہے۔
”پاکستان میں ہر سال قریب 36 ملین ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔ فی کس بنیادوں پر سالانہ تقریباﹰ 122 کلوگرام دسترخوان تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے۔ صرف اس وجہ سے ملکی معیشت پر پڑنے والا سالانہ بوجھ چار بلین ڈالر سے زیادہ بنتا ہے۔ علاقائی سطح پر بات کی جائے، تو آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک بھارت میں خوراک کا فی کس سالانہ ضیاع قریب 54 کلوگرام ہے جبکہ دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک چین میں یہی اوسط 76 کلوگرام بنتی ہے۔ یوں ایک عام پاکستانی ہر سال ایک عام بھارتی یا چینی باشندے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خوراک کے ضائع ہو جانے کا سبب بنتا ہے۔‘‘
منور حسین نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خوراک کے ضیاع میں ناقص انفراسٹرکچر، فوڈ اسٹوریج کی سہولیات کا فقدان، نقل و حمل اور سپلائی چین کے مسائل، جن میں اشیائے خوراک کا منڈیوں تک نہ پہنچنا بھی شامل ہے، کلیدی اسباب ہیں۔انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہمارے ہاں آگہی اور کسانوں میں ٹریننگ کی کمی بھی خوراک کی قلت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مثلاﹰ اگر ٹماٹر کی پیداوار مناسب وقت پر منڈی تک نہ پہنچے، تو اس کا کافی حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سماجی اور ثقافتی اسباب بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جیسے شادیوں کی بہت بڑی بڑی تقریبات میں بہت سی خوراک کا ضائع ہو جانا۔ پھر ہمارے ہاں ایسی پالیسیوں کی بھی کمی ہے، جن کے ذریعے خوراک کے ضیاع کی عملی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔‘‘
ایک غیر سرکاری تنظیم پاکستان یوتھ چینج ایڈووکیٹس کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اریبہ شاہد کافی عرصے سے خوراک، غذائیت اور خوراک کے ضیاع جیسے موضوعات پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غذائی تحفظ کے شعبے میں پاکستان میں ایک بہت پریشان کن تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف قریب 30 فیصد ملکی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہتی ہے تو دوسری طرف خوراک کا مجموعی ضیاع تشویش ناک حد تک زیادہ ہے۔اریبہ شاہد نے بتایا، ”یہ صورتحال خوراک ذخیرہ کرنے اور اس کی تقسیم کے نظام میں خرابیوں کی عکاسی بھی کرتی ہے، اور سماجی اور کاروباری سطحوں پر نامناسب رویوں کی بھی۔ پاکستان میں مؤثر قواعد و ضوابط کے نفاذ کی ضرورت تو ہے ہی، لیکن ساتھ ہی قومی ترجیحات میں پالیسی سازی، مروجہ نظام میں اصلاحات اور عمومی رویوں میں تبدیلی کے نتیجہ خیز امتزاج کی بھی۔‘‘
پاکستان یوتھ چینج ایڈووکیٹس کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کا کہنا تھا، ”اضافی خوراک عطیہ کیے جانے کے لیے ریستورانوں، کیٹررز اور سپر مارکیٹوں کے مابین پارٹنرشپ کا نظام ہونا چاہیے۔ خوراک کا ضیاع صرف ایک ماحولیاتی یا معاشی مسئلہ ہی نہیں، یہ پاکستان میں اس لیے ایک اہم اخلاقی مسئلہ بھی ہے کہ ملک کی 30 فیصد آبادی کو تو اپنی بنیادی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔‘‘
پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں فوڈ اتھارٹی کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہرہ صدیقی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ سب سے اہم بات فوڈ پلاننگ ہے، یعنی صارفین صرف وہی اشیائے خوراک خریدیں، جن کی ان کو واقعی ضرورت ہو۔ انہوں نے کہا کہ یوں اچانک اور جذباتی رویوں کی وجہ سے کی جانے والی فوڈ شاپنگ کم ہو جاتی ہے، کیونکہ ایک سماجی نفسیاتی مسئلہ ضرورت سے زیادہ خوراک کی خریداری بھی ہے۔ڈاکٹر طاہرہ صدیقی کے مطابق، ”سپلائی چین میں بہتری، کولڈ اسٹوریج میں سرمایہ کاری اور خوراک کی دوبارہ تقسیم کے نظام کی مضبوطی سے خوراک کے صارفین تک پہنچنے سے پہلے ہونے والے نقصانات کو بہت کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد سماجی سطح پر خوراک کا ذمے دارانہ استعمال بھی بہت اہم ہے۔
حکومت خوراک کے ضیاع کے تدارک کے فعال نظام اور آگہی کی سماجی مہموں پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ تاہم ان کوششوں کی کامیابی کے لیے حکام اور عوام دونوں کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔‘‘




