نور مقدم قتل کیس ،درندہ صفت ملزم ظآہر جعفر اپنے انجام کو پہنچ گیا

عدالت نے دماغی مریض ظاہر کرکے مجرم کو بچانے کی کوشش ناکام بنادی،موت کی سزا برقرار
صدر سے درخواست ہے کہ وہ بھی درندہ صفت ملزم کی رحم کی اپیل منظور نہ کریں، والدین نور مقدم

اسلام آباد(خصوصی رپورٹر)عدالت عظمیٰ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی نظر ثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت مکمل کرکے فیصلہ سنایا۔عدالت نے قراردیا کہ مجرم بے رحم قاتل ہے اور ہمدردی کے قابل نہیں۔
دوران سماعت ملزم کے وکیل نے دلائل دیتےہوئےکہا کہ سب سے پہلےتسلیم کرتا ہوں مقتولہ نور مقدم کے ساتھ ظلم ہوا، میں مقتولہ کے خاندان کے سامنے معذرت خواہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میرے دلائل کا مرکز وقوعہ کے وقت مجرم کی دماغی حالت ہے، وقوعے اور ٹرائل کے وقت میرے موکل کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی تاہم یہ نہیں کہوں گا میرے مؤکل نے قتل نہیں کیا۔
تسلیم کرتا ہوں کہ میرا موکل وقوع کے وقت موجود تھا یہ نہیں کہوں گا کہ اس نے قتل نہیں کیا وقوع اور ٹرائل کے وقت میرے موکل کی دماغی حالت تھی ٹھیک نہیں تھی انہوں نے اپنے دلائل میں یہ بھی کہا کہ ٹرائل کے دوران جیل میں بھی مجرم کو ادویات دی جاتی رہی ریکارڈ موجود ہے کہ ظاہر جعفر ا بائی پولر ڈس اور ڈپریشن کی ادویات لیتا تھا یہ وہ بیماریاں ہیں جس میں مریض جارحانہ مزاج میں آجاتا ہے جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ایسا ریکارڈ دکھائیں جس میں مجرم کے علاج معالجے کی تفصیلات ہوں اور علاج کب شروع ہوا انہوں نے اپنی ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ کیا وقوع کے وقت علاج چل رہا تھا یا نہیں۔
جسٹس صلاح الدین نے کہا کہ یہ بھی ثابت کریں مجرم کب اس بیماری کا شکار ہوا اور کس ڈاکٹر نے اس کا علاج کیا ان کے دوست بھی ہوں گے مجرم کی سکول یا کالج یونیورسٹی کی پوری میڈیکل ہسٹری ہوگی خواجہ حارث کی جانب سے لندن کے ہارلے کلینک کا خط عدالت میں پیش کیا گیا جس پر جسٹس صلاح الدین نے ریمارکس دیے کہ اس خط پر تو 2022 کی تاریخ درج ہے کیا مجرم واقعے کے بعد خود دوا لینے لندن گیا تھا ان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اپ کی دلیل ہے کہ مجرم کو مرضی کا وکیل نہیں ملا یہ عجیب حیرت کی بات ہے کہ مجرم کو مرضی کا وکیل نہ ملا لیکن لندن سے اس کے لیے خط آگیا حیران کن بات ہے کہ مقبولہ کا تو ٹیسٹ کرایا گیا لیکن مجرم کا نشے کی جانچ کا ٹیسٹ نہیں ہوا میرا سوال ہے کہ استغاثہ نے مجرم کے نشے کا ٹیسٹ کیوں نہیں کرایا۔
خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں یہ بھی کہا کہ ٹرائل کے دوران جس طرح کی رپورٹنگ ہوئی استغاثہ نے دباؤ میں ا کر میرے موقل کا ٹیسٹ نہیں کرایا اس وقت سوشل میڈیا پر یہی چل رہا تھا کہ مجرم کو نشے کا عادی بنا کر بچایا جائے گا انہوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ معذرت کے ساتھ جج صاحب نے بھی ٹرائل کے دوران میڈیا کا پریشر لیا ۔
عدالت نے سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم ظاہر جعفر کی نظر ثانی درخواست مسترد کردی اور سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔
عدالت سے سزا کے بعد نور مقدم کے والدین نے صدر سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی ملزم کی رحم کی اپیل منظور نہ کریں تاکہ درندہ صفت ملزم اپنے الزام کو پہنچے۔
یاد رہے کہ ملزم ظاہر جعفر نے بیس جولائی 2021 کوگھر بلا کر مقتولہ کو بیدردی سے قتل کر دیا تھا.ملزم نے تیز دھار آلے سے مقتولہ کا سر تن سے جدا کر دیا تھا.نورمقدم نے جان بچانے کے لئے ملزم کی منتیں کیں کمرے کی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر بھاگنے کی کوشش بھی کی لیکن سیکورٹی گارڈ نے باہر نہ جانے دیا.مقتولہ نے سیکورٹی گارڈ کے کیبن میں‌چھپنے کی کوشش بھی کی لیکن ملزم گیٹ کے پاس سے متتولہ کو کمرے کے اندر لے گیا اور اسے بیدردی دے مار ڈالا .وقوعہ کے وقت مقتولہ کی عمر ستائیس سال تھی.