759 اسکالر و فیلوشپس، 52 تحقیقی گرانٹس، 174 منصوبے و اقدامات، پنجاب کے 5 ہزار سیلاب متاثرین کو طبی و امدادی سہولیات
اسلام آباد (نیوزرپورٹر)او آئی سی کی وزارتی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) نے سال 2025 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی، جس کے مطابق ایک سال کے دوران 54 ممالک کے 5 ہزار سائنسدانوں اور محققین کو تربیت فراہم کی گئی، 759 اسکالرشپس اور فیلوشپس دی گئیں جبکہ 52 تحقیقی گرانٹس کے ساتھ 174 منصوبوں اور اقدامات پر عملدرآمد کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں قائم عالمی ادارے نے سال کے دوران 68 تربیتی پروگرام منعقد کیے جبکہ 80 سے زائد جامعات، تحقیقی مراکز اور علمی اداروں پر مشتمل بین الاقوامی نیٹ ورک کو مزید وسعت دی گئی۔
کامسٹیک کے پروگراموں سے الجزائر، آذربائیجان، بنگلہ دیش، چین، انڈونیشیا، ایران، مراکش، روانڈا، سعودی عرب، ترکیہ، فلسطین، یمن اور متعدد افریقی ممالک سمیت مجموعی طور پر 54 ممالک کے سائنسدانوں، طلبہ، محققین اور اداروں نے استفادہ کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 759 اسکالرشپس اور فیلوشپس کے ذریعے نوجوان طلبہ اور محققین کو پاکستان اور دیگر ممالک کی شراکت دار جامعات و تحقیقی اداروں میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور خصوصی تربیت کے مواقع فراہم کیے گئے۔
اسی طرح 5 ہزار سائنسدانوں اور محققین کو جدید سائنسی آلات، بائیوٹیکنالوجی، صحت، ویکسین ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت دی گئی جبکہ نوجوان اور خواتین سائنسدانوں سمیت مختلف تحقیقی سرگرمیوں کے لیے 52 گرانٹس فراہم کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق کامسٹیک نے 2025 کے دوران پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں مفت طبی و امدادی کیمپ بھی منعقد کیے، جہاں جنوبی پنجاب اور ضلع چنیوٹ میں تقریباً 5 ہزار متاثرین کو ادویات، طبی امداد اور راشن فراہم کیا گیا۔
افریقہ میں قابل علاج نابینا پن کے خاتمے کے لیے کامسٹیک نے اسلامی ترقیاتی بینک، LRBT اور الشفا ٹرسٹ کے اشتراک اور او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ کے تعاون سے آنکھوں کے علاج اور سرجری کا پروگرام بھی شروع کیا، جس کے تحت مفت موتیا اور ریٹینا آپریشنز کے ساتھ مقامی طبی ماہرین کی جدید تربیت بھی کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کامسٹیک کی سرگرمیوں میں صحت و حیاتیاتی علوم، تعلیم، تحقیق، ماحول، موسمیاتی تبدیلی، پانی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، غذائی تحفظ، انجینئرنگ، انسانی امداد، توانائی اور سائنس ڈپلومیسی کے شعبے شامل رہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ 80 سے زائد جامعات اور تحقیقی اداروں پر مشتمل نیٹ ورک کے ذریعے مشترکہ تحقیق، ماہرین کے تبادلے، تربیت اور علمی روابط کو فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ اسلام آباد میں قائم کامسٹیک سیکریٹریٹ مسلم دنیا اور دیگر ممالک کے سائنسدانوں، طلبہ اور تحقیقی اداروں کو باہم جوڑنے میں اپنا کردار وسیع کر رہا ہے



