برادر دوست ملک نے فیصلہ معاشی صورت حال کو سہارا دینے کے لئے کیا
اس وقت پاکستان کے پاس سعودی عرب کے کل 8 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس موجود ہیں

ریاض ÷اسلام آباد(کامرس رپورٹر)سعودی عرب نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو سہارا دیتے ہوئے اپنے 5 ارب ڈالر کے قرض کی مدت میں مزید تین سال کی توسیع کردی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق سعودی عرب کے اس اقدام سے ملک پر فوری غیر ملکی ادائیگیوں کا شدید دباؤ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔
مرکزی بینک کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت پاکستان کے پاس سعودی عرب کے کل 8 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس موجود ہیں، جن میں سے رواں سال اپریل میں 3 ارب ڈالر کے نئے ڈیپازٹس بھی موصول ہوئے تھے۔
اسٹیٹ بینک کے حکام نے ملکی بیرونی ادائیگیاں اور معاشی روڈ میپ کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ”پاکستان کو رواں مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 21.5 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنی ہیں، جن میں اصل قرضے کی رقم 18 ارب ڈالر ہے“۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ ”اس 21.5 ارب ڈالر کی رقم میں سے 11 ارب ڈالر کا قرضہ پورے مالی سال کے دوران رول اوور ہو جائے گا، جبکہ گزشتہ دورانیے کے مقابلے میں غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں بھی 50 کروڑ ڈالر کی کمی آئی ہے“۔
ادائیگیاں اور آنے والے فنڈز کا ذکر کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے ترجمان نے بتایا کہ ”جولائی کے مہینے میں ہی 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے کامیابی سے واپس کیے جا چکے ہیں، جبکہ اگلے ماہ چین سے 1.3 ارب ڈالر کے قرض کی ری فنانسنگ بھی متوقع ہے“۔
مرکزی بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران اوپن مارکیٹ سے 9 ارب ڈالر خریدے گئے تھے جن سے زرمبادلہ کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔
معاشی استحکام کی پیش گوئی کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ ”تجارتی اور مالیاتی اقدامات کے نتیجے میں دسمبر 2026 تک ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر کی حد سے تجاوز کر جائیں گے“۔
5 ارب ڈالرسعودی قرض وصولی مزید تین سال کے لیے موخر



