سید عباس حیدر شاہ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
پاکستان میں ایک مرتبہ پھر نئے صوبوں کے قیام کی بحث سیاسی منظرنامے پر نمایاں ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس بحث میں ہمیشہ کی طرح انتظامی سہولت، بہتر حکمرانی، عوام کو ان کی دہلیز پر ریاستی خدمات کی فراہمی اور محروم علاقوں کو زیادہ نمائندگی دینے جیسے دلائل پیش کیے جا رہے ہیں۔
یہ تمام دلائل بظاہر قابلِ فہم ہیں۔ لیکن ایک آئینی شاگرد اور ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے میرا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے موجودہ انتظامی، سیاسی اور معاشی مسائل کا حل واقعی مزید صوبے بنانا ہے، یا ہمیں پہلے یہ دریافت کرنا چاہیے کہ موجودہ نظام اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام کیوں ہو رہا ہے؟
میری رائے واضح ہے کہ میں نئے صوبے بنانے کے حق میں نہیں ہوں اور باالخصوص بدنیتی پر مبنی سندھ کی تقسیم کو کبھی قبول نہیں کر سکتا۔
میری مخالفت کسی علاقے، زبان، قومیت یا سیاسی جماعت کے خلاف نہیں۔ میری تشویش اس سوچ سے ہے کہ ہم حکمرانی کی ناکامی کو administrative fragmentation کے ذریعے حل کرنے کی کوشش نہ کریں!
اگر موجودہ چار صوبوں میں اچھی حکمرانی، شفافیت، احتساب، وسائل کے منصفانہ استعمال، مؤثر بلدیاتی نظام، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جا سکی تو محض صوبوں کی تعداد بڑھا دینے سے یہ مسائل کیسے حل ہوں گے؟
مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں، حکمرانی کا معیار ہے کیونکہ ہمیں سب سے پہلے اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا کہ موجودہ صوبائی نظام کہاں اور کیوں ناکام ہو رہا ہے۔
کیا مسئلہ وسائل کی کمی ہے؟ یا وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے؟ کیا مسئلہ اختیارات کی مرکزیت ہے؟ یا اختیارات کے غلط استعمال کا ہے؟ کیا مسئلہ انتظامی ڈھانچے کا ہے؟
یا سیاسی مداخلت، بدعنوانی، کمزور احتساب اور ادارہ جاتی ناکامی کا؟ کیا عوام کو وسائل نہیں مل رہے؟
یا دستیاب وسائل شفاف اور مؤثر طریقے سے استعمال نہیں ہو رہے؟
جب تک ان سوالات کا شفاف، غیر جانب دار اور data-based جواب تلاش نہیں کیا جاتا، نئے صوبے بنانا مسئلے کا علاج نہیں بلکہ نئے نئے مسئلے پیدا کرنے کے مترادف ہے، اور میرا اگلہ سوال یہ ہے کہ اگر موجودہ افراد سے، چار صوبے نہیں سنبھل رہے تو تینتیس یا اس سے کم یا زیادہ کیسے سنبھالیں گے؟
یہ سوال بظاہر سیاسی ہے، لیکن دراصل ایک سنجیدہ governance question ہے۔
اگر ریاست کے موجودہ چار صوبوں میں ہم!
– مؤثر تعلیم نہیں دے پا رہے،
– صحت کا بنیادی نظام بہتر نہیں بنا پا رہے،
– بلدیاتی اداروں کو بااختیار نہیں کر پا رہے،
– پولیس اور انتظامیہ کو سیاسی مداخلت سے مکمل طور پر آزاد نہیں کر پا رہے،
– سرکاری وسائل کے استعمال میں مکمل شفافیت نہیں لا پا رہے،
– اور عوام کو بنیادی شہری سہولیات دینے میں مشکلات کا شکار ہیں، بلکہ یہ کہنا مناسب ہے کہ مکمل ناکام ہیں،
تو پھر یہ تصور کہ صوبوں کی تعداد بڑھا کر اچانک حکمرانی بہتر ہو جائے گی، کم از کم عقل سے عاری بات ضرور ہے۔ کیونکہ عقل کی کسوٹی سیدھی ہے کہ
چار صوبے سنبھالنے میں ناکامی کا علاج 33 صوبے بنانا نہیں ہو سکتا۔
کیونکہ ہم governance failure کو حل کرنے کے بجائے اسے مزید administrative units میں تقسیم کر دیں گے جو کہ سراسر ظلم و عدم توازن کی بنیاد رکھنا ہے۔
اور پھر ہر نئے صوبے کے ساتھ نئی اسمبلی، نیا سیکریٹریٹ، نئی کابینہ، نئی بیوروکریسی، نئی عمارتیں، نئی مراعات، نئی administrative machinery اور نئے اخراجات پیدا ہوں گے اگر اتنے وسائل ملک میں موجود ہیں تو پہلے ملک کا قرضہ اتاریں باقی بچے ہوئے پیسوں سے تعمیر و ترقی کے کام مکمل کریں پھر دوسرے تجربات کی بات کریں۔
بات یہ ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت اس اضافی administrative burden کی متحمل ہو سکتی ہے؟
کیا ہر انتظامی مسئلے کا حل نیا صوبہ ہے؟
یہ مفروضہ جھالت کی عینک اتار کر بعد میں جانچنے کی ضرورت ہے۔
اگر کسی علاقے میں ریاستی اداروں کی رسائی کم ہے تو وہاں رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
اگر اختیارات چند شہروں یا صوبائی دارالحکومتوں میں مرتکز ہیں تو مؤثر local governments قائم کی جا سکتی ہیں جس کا ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے۔
اگر عوام کو فیصلوں میں حصہ نہیں ملتا تو decentralisation کی جا سکتی ہے۔
اگر وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہے تو ایک شفاف، قابلِ پیمائش اور audit-able formula بنایا جا سکتا ہے۔میرے حساب سے وہ سب طریقہ بھی پہلے سے موجود ہے،
اگر ترقیاتی فنڈز سیاسی بنیادوں پر استعمال ہوتے ہیں تو procurement، audit اور public disclosure کے نظام کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
اگر کسی خطے میں احساسِ محرومی ہے تو اس محرومی کی اصل وجوہات تلاش کی جا سکتی ہیں۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم ہر مسئلے کا جواب “نیا صوبہ” کیوں تلاش کر رہے ہیں؟ اب جو صوبے بنانے کے شوقین ہیں وہ حضرات کہہ رہے ہیں کہ ریفرنڈم کے ذریعے نئے صوبے بنا سکتے ہیں عالیجنابان کی ہر بات چور دروازے سے شروع ہوتی ہے اور اسی پے ختم!
آئیے دیکھتے ہیں کہ آئین کیا کہتا ہے! آئین ہمیں ایک اہم اور واضح راستہ دیتا ہے، پاکستان کا آئین نئے صوبے بنانے کے امکان کو ختم نہیں کرتا، لیکن اسے آسان سیاسی فیصلے کے طور پر بھی نہیں چھوڑتا۔
اگر کسی Constitutional Amendment کا اثر کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنا ہو تو Article 239(4) کے تحت متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے منظوری ضروری ہے۔
یہ constitutional safeguard اس بات کی علامت ہے کہ صوبوں کی حدود کوئی معمولی administrative matter نہیں۔وہ وفاقی constitutional structure کا حصہ ہیں۔
اسی طرح Article 48(6) قومی اہمیت کے کسی معاملے پر مقررہ طریقہ کار کے تحت referendum کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ لیکن referendum کو صوبہ بنانے کا shortcut سمجھنا درست نہیں۔ ریفرنڈم عوامی رائے معلوم کرنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے، مگر جہاں آئینی ترمیم درکار ہو وہاں constitutional amendment کا مقررہ طریقہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے اسی کو اختیار کیا جائے گا۔ لہذا کسی جانبدار ریفرنڈم سے صوبہ نہیں بنتا بلکہ آئین میں صوبے بنانے کے لیے واضح طریقہ کار موجود ہے، ریفرنڈم ہو یا نہ ہو وہی Follow ہوگا۔
میرا مؤقف یہ نہیں کہ پاکستان میں موجودہ انتظامی نظام کامل ہے۔اس کے برعکس، میرا مؤقف یہ ہے کہ موجودہ نظام کی ناکامی کو سنجیدگی سے diagnose کیا جائے۔
ایک قومی commission یا غیر جانب دار constitutional/governance commission قائم کیا جائے جو ہر صوبے کے بارے میں مکمل تحقیق کرے۔
جس میں دیکھا جائے کہ!
کہاں administrative failure ہے؟
کہاں سیاسی failure ہے؟
کہاں fiscal failure ہے؟
کہاں institutional failure ہے؟
کہاں corruption اور lack of accountability کا مسئلہ ہے؟
پھر ہر مسئلے کے لیے evidence-based solution تجویز کیا جائے۔
لیکن پہلے سے یہ فرض کر لینا کہ ہر governance problem کا حل ایک نیا صوبہ ہے، دانش مندانہ approach نہیں بلکہ بدنیتی پر مبنی بیانیہ ہے۔
ملک کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا حل نہیں
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ administrative restructuring اور national fragmentation میں ایک باریک مگر اہم فرق ہے۔
ایک ریاست اپنے administrative units بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کر سکتی ہے، لیکن جب صوبائی شناختیں مسلسل سیاسی مقابلے کا ذریعہ بن جائیں تو یہ عمل صرف administration تک محدود نہیں رہتا۔
پھر وسائل، شناخت، زبان، representation اور اقتدار کی سیاست نئے تنازعات پیدا کر سکتی ہے۔
پاکستان پہلے ہی سیاسی، معاشی اور ادارہ جاتی بحرانوں سے گزر رہا ہے۔
ایسے وقت میں ریاستی اکائیوں کی تعداد بڑھانا کوئی ایسا فیصلہ نہیں جسے صرف ایک سیاسی slogan کے طور پر پیش کیا جائے۔
ہمیں ریاست کو چھوٹا نہیں، نظام کو مؤثر بنانا ہے۔
ہمیں نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے سے پہلے governance کے پرانے زخموں کا علاج کرنا ہے۔
33 یا 36 صوبے بنانا اصلاح یا مزید پیچیدگی ہی ہے،
اگر کوئی شخص یہ دلیل دیتا ہے کہ پاکستان میں 33 صوبے بنا دینے سے عوام کو بہتر حکمرانی ملے گی تو اسے یہ بھی بتانا ہوگا کہ ان 33 اکائیوں کے لیے کیا مالی capacity موجود ہے؟
کیا competent bureaucracy موجود ہے؟
کیا institutional capacity موجود ہے؟
کیا fiscal decentralisation کا قابلِ عمل model موجود ہے؟
کیا سیاسی maturity موجود ہے؟
اور کیا قومی سطح پر اتنی administrative fragmentation کو manage کرنے کی capacity موجود ہے؟
اگر ان سوالات کے جوابات نفی میں ہیں تو محض صوبوں کی تعداد بڑھانا اصلاح نہیں بلکہ پیچیدگی و پریشانی ہے اور ملکی عدم استحکام میں اضافہ ہے ہمارا ملک جس کا متحمل نہیں ہے۔
میرے نزدیک یہ حکمتِ عملی ایسی ہو سکتی ہے جیسے کوئی شخص گھر کی بنیاد مضبوط کرنے کے بجائے کمروں کی تعداد بڑھاتا جائے۔
مسئلہ کمروں کی تعداد نہیں، بنیاد کی مضبوطی ہے۔
ہمیں “مزید صوبے” نہیں، “بہتر ریاست” چاہیے۔
پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت good governance، rule of law، institutional accountability، fiscal discipline، empowered local governments، transparent public expenditure اور merit-based administration کی ہے۔
اگر یہ چیزیں موجود ہوں تو ایک بڑا صوبہ بھی مؤثر طریقے سے چل سکتا ہے۔
اور اگر یہ چیزیں موجود نہ ہوں تو چھوٹا صوبہ بھی بدعنوانی، نااہلی، سیاسی مداخلت اور ادارہ جاتی کمزوری کا شکار ہو سکتا ہے۔
لہٰذا اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ،
“کتنے صوبے ہونے چاہئیں؟” بلکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ
“ریاست کو عوام کے لیے مؤثر، شفاف، جواب دہ اور قابلِ رسائی کیسے بنایا جائے؟”
بات یہ ہے کہ میں نئے صوبوں کے تصور کی مخالفت اس لیے نہیں کرتا کہ میں انتظامی اصلاحات کے خلاف ہوں۔
میں اس کے برعکس انتظامی اصلاحات کا حامی ہوں۔
لیکن اصلاحات evidence، transparency اور constitutional consensus کی بنیاد پر ہونی چاہئیں، نہ کہ سیاسی convenience پر۔
اگر کسی علاقے کے عوام محروم ہیں تو ان کی محرومی دور کی جائے۔
اگر وسائل کی تقسیم غلط ہے تو اسے درست کیا جائے۔
اگر اختیارات مرکز میں جمع ہیں تو انہیں مقامی سطح تک منتقل کیا جائے۔
اگر صوبائی حکومت ناکام ہے تو اس کی governance کو بہتر کیا جائے۔
اگر بلدیاتی ادارے کمزور ہیں تو انہیں آئینی و مالی اختیار دیا جائے۔
اگر احتساب کمزور ہے تو اسے مضبوط کیا جائے۔
اور اگر کسی مخصوص علاقے کے لیے واقعی موجودہ constitutional structure میں رہتے ہوئے ترقی ممکن نہیں تو پھر تمام stakeholders کو اعتماد میں لے کر آئینی راستہ اختیار کیا جائے۔
لیکن بغیر مسئلہ دریافت کیے، بغیر institutional failure کا تجزیہ کیے، بغیر معاشی capacity کا حساب کیے اور بغیر عوامی رضامندی کے محض صوبوں کی تعداد بڑھا دینا دانش مندی نہیں۔ بلکہ میرے نزدیک یہ اس وقت جان بوجھ کر کھائی میں گرنے کے مترادف ہوگا جب ہم یہ جانتے ہوں کہ موجودہ چار صوبوں کے governance challenges ابھی تک حل نہیں ہوئے۔ پاکستان کو مزید ٹکڑوں کی نہیں، مزید بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے۔
ہمیں نئے صوبوں سے پہلے نیا governance vision چاہیے۔
ہمیں نقشے پر نئی لکیروں سے پہلے نظام میں نئی شفافیت چاہیے۔
اور ہمیں صوبوں کی تعداد بڑھانے سے پہلے ریاست کی capacity بڑھانی چاہیے۔
کیونکہ ایک مضبوط پاکستان وہ نہیں جس کے نقشے پر زیادہ صوبے ہوں؛
ایک مضبوط پاکستان وہ ہے جہاں کمزور سے کمزور شہری بھی ریاست کو اپنے ساتھ کھڑا محسوس کرے۔


