جیسے ہی نیتن یاہو خطاب کے لئے آئے ان پر ہوٹنگ شروع ہوگئی درجنوں ممالک کا بائیکاٹ
ترمپ سے ملاقات بھی نہ ہو سکی، محض آٹھ گھنٹے امریکہ میں گزارنے کے بعد واپس روانہ
نیویارک:اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور اسرائیل کو سخت سبکی کا سامنا کرنا پڑا.درجنوں ممالک نے نیتن یاہو کی تقریر کا بائیکاٹ کردیا اور ان کی تقریر کے دوران ہال تقریبا خالی ہوگیا. ایرانی وفد معنی خیزانداز میں شہید لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کی تصویر ڈیسک پر رکھ کرہال سےچلا گیا۔
نیتن یاہو نے اپنی خفت مٹانے کے لئے واک آؤٹ کرنے والوں کو ’اخلاقی بزدل‘ قرار دیا۔ لیکن ان کے خطاب کے دوران واک آئوٹ اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا.
خطاب میں نتین یاہو نے دعویٰ کیا کہ وقت دور نہیں جب ایرانی عوام حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔انہوں نےاسٹارلنک ڈیوائس دکھا کر ایران میں انٹرنیٹ کی فراہمی پر زور دیا اور لبنان میں حزب اللہ رہنماؤں کو شہید کرنے کیلئے استعمال پیجر بھی دکھائے۔
اس کے علاوہ اسرائیلی وزیراعظم نے حماس کی حمایت پر ترک صدر کو ظالم حکمران کہا جب کہ قطر پربھی چوٹ ماری اور ظہران ممدانی کو یہود مخالف نیویارک مئیر قرار دیا۔
دوسری جانب یو این اجلاس کے دوران اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب نے اوچھی حرکت کرتے ہوئے ایرانی مندوب کے پاس جاکر اسٹارلنک ڈیوائس دکھائی اور جملے کسے تاہم ایرانی اہلکار نے اسرائیلی مندوب کو نظرانداز کردیا۔
نیتن یاہو اور اسرائیل کی اس قدر سبکی ہوئی کہ ٹرمپ نے ان سے ملاقات بھی نہیں کی وہ امریکہ میںمحض آٹھ گھنٹے گزار کر واپس روانہ ہو گئے.
یار رہے کہ اسرائیل کو غزہ اور لبنان میں اپنے اقدامات کے باعث مہذب دنیا کی مخالفت کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے انکوائری کمیشن نے اس سے قبل اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا الزام لگایا تھا – اسرائیل نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا.
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے زیرقیادت حملے سے شروع ہوئی تھی، جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 دیگر کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے غزہ میں فوجی مہم شروع کی، جس کے دوران علاقے کی وزارت صحت کے مطابق، 73,920 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔




