سی ڈی اے میں پلاٹوں کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ کا مقدمہ درج

10 پلاٹ فائلوں کی منظوری میں جعلسازی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات

اسلام آباد(سٹی رپورٹر) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے کارپوریٹ کرائم سرکل اسلام آباد نے سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف لینڈ اینڈ ری ہیبلیٹیشن میں مبینہ جعلسازی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی طور پر پلاٹ الاٹ کرنے کے معاملے پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی اے کی ایف آئی آر کے مطابق، انکوائری نمبر 35/2024 مکمل ہونے کے بعد انکشاف ہوا کہ سی ڈی اے کے متعلقہ افسران اور اہلکاروں نے مبینہ طور پر نجی افراد کے ساتھ ملی بھگت اور مجرمانہ سازش کے تحت اسلام آباد کے سیکٹر I-12/4 میں 30×60 مربع فٹ کے 10 رہائشی پلاٹوں کی فائلوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی منظوری دی۔
مقدمے کے متن کے مطابق، متاثرہ شخص اسلم ولد سمندر کو ماضی میں ضلع ملتان میں سرکاری زمین کے حصول کے لیے اہلیت کا سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تھا۔
تاہم الزام ہے کہ بعد ازاں ساجد اسلم ولد محمد اسلم کی جانب سے 11 ستمبر 2017 کو جمع کرائے گئے دعوے کی بنیاد پر متعلقہ سی ڈی اے افسران نے مبینہ طور پر غیر قانونی کارروائی کرتے ہوئے سیکٹر I-12/4 میں 10 رہائشی پلاٹوں کی الاٹمنٹ منظور کی۔
ایف آئی آر میں اس اقدام کو مبینہ طور پر دوہری بحالی کی سہولت حاصل کرنے، جعلسازی، مجرمانہ خیانت، سرکاری عہدے کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی فوائد کے حصول سے متعلق قرار دیا گیا ہے۔
مقدمے میں سی ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر لینڈ عرفان اللہ، لطیف سعیدی، اشغر علی، فقیر محمد، محمد اطہر خان، افنان عالم اور سدرا انور سمیت دیگر متعلقہ افسران اور مبینہ مستفید ہونے والے افراد کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق، سابق ممبر اسٹیٹس سی ڈی اے یاسر شاہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریونیو اور دیگر افراد کے کردار کا تعین بھی تفتیش کے دوران کیا جائے گا۔
ایف آئی اے نے مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 419، 420، 468، 471 اور 109 سمیت انسدادِ بدعنوانی کے قانون کی متعلقہ دفعہ کے تحت درج کیا ہے۔ مقدمے میں نامزد افراد کے خلاف الزامات کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ایف آئی آر میں درج الزامات کا حتمی تعین عدالتی کارروائی اور شواہد کی روشنی میں ہوگا