مسعود اظہر کے خلاف اقوام متحدہ کی قرار داد چین نے ویٹو کر دی

جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی تجویز کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن چین نے ‘ٹیکنیکل ہولڈ’ کی بنیاد پر ایک بار پھرویٹو کر دی ہے .جس کے بعد بھارت میں صف ماتم بچھ گیا ہے .

مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی تجویز سلامتی کونسل کے پانچ میں سے تین مستقل اراکین امریکہ، برطانیہ اور فرانس نےبھارت کی درخواست پر  گذشتہ ماہ دی تھی۔

مقبوضہ  کشمیر میں 14 فروری کو  پلوامہ میں ہونے والے ایک خود کش حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 سینکشنز کمیٹی کے تحت  یہ تجویز دی تھی ۔اس حملے کی ذمہ داری جیشِ محمد نے قبول کی تھی۔

بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے  اس فیصلے کے بعد جاری کیے گئے بیان میں ’مایوسی‘ کا اظہار کیا گیا ہے اور مزید کہا گیا کہ وہ ساتھی ممالک کے شکر گزار ہیں اور اور ہر ممکن کوشش کریں گے کے مستقبل میں تمام اقدامات لیں جن کی مدد سے دہشت گردی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ممنوعہ تنظیموں اور افراد کی لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش سنہ 2009 سے جاری ہے۔ اس کے بعد سنہ 2016 اور سنہ 2017 میں بھی یہ تجویز سلامتی کونسل کے سامنے پیش کی گئی تاہم کونسل کے مستقل رکن چین کی جانب سے ہمیشہ اس کی مخالفت کی گئی جس کے باعث ایسا ممکن نہ ہو پایا۔

یہ چوتھا موقع ہے جب چین نے مسعود اظہر کے خلاف پیش کی گئی تجاویز کی مخالفت ثبوتوں اور شواہد کے ناکافی ہونے کی بنیاد پر کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل 15 اراکین پر مشتمل ہیں جن میں پانچ مستقل جبکہ 10 عارضی اراکین ہیں۔

عارضی اراکین کا انتخاب دو سال کی مدت کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

پانچ مستقل اراکین میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین شامل ہیں اور سلامتی کونسل کے کسی بھی فیصلے کی منظوری ان پانچ ممالک کی رضامندی سے مشروط ہے۔ مستقل ممالک میں سے اگر ایک بھی ملک کسی تجویز کے خلاف اپنی ‘ویٹو پاور’ استعمال کرتے ہوئے اس کی حمایت سے دستبردار ہوتا ہے تو اس فیصلے کو مسترد سمجھا جاتا ہے۔