دو عیدیں آج کی بات نہیں سلسلہ قیام پاکستان سے چلا آرہا ہے، مفتی منیب

دو عیدیں آج کی بات نہیں سلسلہ قیام پاکستان سے چلا آرہا ہے، مفتی منیب

کراچی ( نیوز ڈیسک) چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ دو عیدیں آج کی بات نہیں یہ سلسلہ قیام پاکستان سے چلا آرہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ʼمجھے اس بات پر حیرت ہوئی کہ جس پارٹی کی وفاق میں حکومت ہے وہ صوبے میں سرکاری سطح پر انحراف کررہی ہے یہ پاکستان کی تاریخ کا منفرد واقعہ ہے۔ مفتی منیب الرحمٰن نے عیدالفطر کا اعلان کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبر پختوا حکومت کو مخاطب کرتے ہوئےکہا کہ ʼوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور شوکت یوسفزئی کو کہنا چاہتا ہوں کہ اٹھارویں ترمیم ہو یا 28 ویں ترمیم ہو یہ سب دین کے تابع ہیں دین ان کے تابع کبھی نہیں ہوگا۔ سربراہ رویت ہلال کمیٹی نے کہا کہ ʼاس کے ساتھ ساتھ اگر کسی یہ جاننا ہے تو ہم سروں کی گنتی نہیں کرائیں گے بلکہ پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید علما کو ان کے ناموں اور تعارف کے ساتھ ایک مقام پر جمع کریں گے اور اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو ہم بتائیں گے کہ ان تمام مکاتب فکر کے جید علما کا مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان پر

مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ʼمیں الیکٹرونک میڈیا سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ آپ مسجد قاسم علی خان کو پورا صوبہ خیبر پختونخوا نہ سمجھیں کیا دوسرے علاقوں کو آپ صوبے سے خارج کریں گے اس لیے جو سرکاری مناصب پر فائز ہیں انہیں اپنے منصب کی نزاکتوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔ مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ʼمحمود خان صاحب پہلے وزیر اعلیٰ نہیں ہیں بلکہ پہلے بھی وزرا اعلیٰ گزرے ہیں، جنرل فضل الحق بھی گزرے ہیں لیکن انہوں نے انفرادی سطح پر جو بھی کیا اس کو ملکی سطح پر وجۂ نزاع نہیں بنایا۔ انہوں نے پرانے اخبار کا تراشا میڈیا کو دیکھاتے ہوئے کہا کہ ʼیہ آپ کے سامنے 1958 کے اخبار کا تراشا ہے جس کی سرخی ہے کہ پشاور کے سوا سارے پاکستان میں عید کل پیر کو منائی جائیگی، یہ آج کی بات نہیں ہے بلکہ قیام پاکستان سے سلسلہ چلا آرہا ہے اور یہ نہیں میری چیئرمینی بلکہ مولانا احتشام الحق تھانوی، مولانا عبداللہ لال مسجد والے، مولانا عبدالشکور دین پور، علامہ محمود رضوی سمیت ان تمام کے ادوار میں یہ انحراف کی روش وہاں رہی ہے۔ چیئرمین رویت ہلال کمیٹی نے کہا کہ ʼصدر ایوب خان مرحوم کے زمانے میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، مفتی محمد حسین نعیمی اور مولانا احتشام الحق تھانوی کو 3 ماہ کے لیے کوئٹہ میں نظر بند بھی کیا تھا لیکن دین کو نظر بند نہیں کیا جاسکتا ہے اور پاکستان میں دین کی سربلندی قائم رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ʼجو ملک دین کے نام پر حاصل کیا گیا ہے اہل اقتدار کے مفاد میں یہ ہے وہ خالص دینی مسائل میں دین کے ساتھ کھڑے ہوں اگر کھڑے ہونے کی ہمت نہ ہوتو کم ازکم وجہ نزع نہ بنیں۔ مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ ʼمیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ الحمداللہ پاکستان میں سب سے بڑی دینی قوت دینی مدارس اور جامعات کے 30 ہزار مدارس ہیں اور ان کے پیچھے مساجد ہیں، ان کی پانچوں تنظیمات کا اتحاد، اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کا میں سیکریٹری جنرل ہیں اگر ان کو مجھ پر اعتماد نہیں ہے تو میں کیسے ہوں، تنظیم المدارس اہل سنت کا میں صدر ہیں اور یہ ہم لوگ جو تمام معاملات میں تمام مسالک کو لے کر چلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ʼاس وقت پاکستان میں علما کہیں بھی حکومت کے خلاف مورچہ زن نہیں، علما اپنا کام کررہے ہیں اور یہ حکومت کے جو وزرا ہیں یہ مارآستین ہیں یہ خوامخواہ علما اور حکومت کے درمیان ایک خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں اور میں یہ بھی ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہوئی جس میں علما شریک نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ʼہم حکومت سے کوئی محاذ آرائی نہیں چاہتے، حکومت اپنے کام کرے لیکن دینی معاملات میں حکومت کا کام ہے معاونت کرنا اور یہی دستور پاکستان کا تقاضا ہے اور کہیں کسی کے لیے مشکل ہے تو رکاوٹ پیدا نہ کرے ہم کوئی اس پاکستان میں انتشار پیدا کرنا نہیں چاہتے ہماری مسلح افواج ملکی دفاع کے لیے مصروف ہیں، ملکی تحفظ اور سلامتی کے لیے ہم ان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں لیکن یہ عناصر دانستہ یا غیر دانستہ حکومت کے لیے غلط مثالیں قائم کررہے ہیں۔ وزرا کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس لیے بعض لوگ کہتے ہیں یہ پلانٹڈ ہیں تاکہ عوام کو ان مسائل پر الجھا جائے اور اصل مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹ جائے لیکن میں ایک بار پھر پوری قوم کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم پوری قوم ایک دیکھنا چاہتے ہیں لیکن دین اور عبادات کو برباد کرنے کی قیمت پر نہیں، پاکستان ایک یا دو شہروں کا نام نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میڈیا اس طرح تازہ دم ہو کر سوال کرے گا مفتی صاحب یہ کیا ہوگیا، میں کہتا ہوں وہی ہوگیا جو 1947 سے ہورہا ہے، اور آپ کیسے میڈیا پرسنز ہیں کہ آپ کو پاکستان کی تاریخ معلوم نہیں، آپ کو پاکستان کی تاریخ معلوم ہونی چاہیے، پاکستان کی تاریخ ہم پر بیتی بھی ہے، ہم نے برتی بھی ہے ہم جانتے بھی ہیں، لمحہ بہ لمحہ، قدم بہ قدم، مرحلہ بہ مرحلہ جانتے ہیں اور ان شااللہ پاکستان اور اسلام کے ساتھ زندگی کی آخری سانس تک کھڑے رہیں گے۔ روزے کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے رمضان المبارک کا روزہ نہیں رکھا تو اس کا فدیہ نہیں بلکہ اس کی قضا ہے اگر وہ روزہ رکھنے کے قابل نہ ہو ہاں جس نے روزہ رکھ کردانستہ توڑ دیا ہے اس پر کفارہ ہے۔