
انگلینڈ میں جاری ورلڈ کپ کے لئے منتظمین نے سب سے بڑی اور حیران کن کوشش کرتے ہوئے کھلاڑیوں،آفیشلز اور آرگنائزرز کو کیش سے دور کردیا ہےاور پلاسٹک منی استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تاریخ میں پہلی بار ٹورنامنٹ میں شریک کھلاڑیوں، ٹیموں کے آفیشلز،امپائروں، میچ ریفریز اور ٹورنامنٹ کے ساتھ کام کرنے والے دیگر افراد کو ڈیلی الاؤنس کی مد میں کیش میں ادائیگی نہیں کی جارہی۔ ہر شخص کو ایک ڈیبٹ کارڈ جاری کیا گیا ہے جس میں ان کے ڈیلی الاؤنس کے مساوی رقم موجود ہے۔
ٹورنامنٹ میں شریک کھلاڑیوں اور آفیشلز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کیش رقم استعمال کرنے سے گریز کریں۔جہاں رقم کی ادائیگی کرنا ہو وہاں کارڈ کا استعمال کیا جائے۔
کارڈ کے استعمال سے منتظمین اور آئی سی سی کے تفتیش کاروں کو یہ بھی پتہ چل سکے گا کہ کب، کہاں اور کس کے ساتھ کارڈ استعمال کیا گیا ہے۔
اس بارے میں مزید تحقیق کے لئے اس جگہ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد بھی لے جاسکے گی۔ کارڈ پر میزبان انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ تحریر ہے۔
حددرجہ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی اور میزبان انگلش بورڈ نے کوشش کی ہے کہ کرکٹ میں بڑھتی ہوئی کرپشن کو روکنے کے لئے کھلاڑیوں، آفیشلز اور دیگر افراد کو کیش کی ادائیگی نہ کی جائے۔
2010میں انگلینڈ میں پاکستان کے تین کھلاڑی سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر نے برطانیہ میں اسپاٹ فکسنگ کی تھی۔ جس کے بعد انہیں سزا بھگتنا پڑی تھی۔ سلمان بٹ سٹے باز مظہر مجید سے کیش لیتے ہوئے دکھائی دیئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران ہر ٹیم کو اس کے ڈیلی الاؤنس کے مساوی کریڈٹ حد دی گئی ہے۔ ہر کارڈ میں 6جولائی تک گروپ میچوں تک کریڈٹ حد دی گئی ہے۔
6 جولائی کو گروپ میچ ختم ہونے کے بعد دس میں سے چھ ٹیمیں وطن واپس چلی جائیں گی جبکہ چار ٹیمیں سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی۔
ورلڈ کپ کے دوران کھلاڑی یہی کارڈ استعمال کررہے ہیں۔انگلش بورڈ کی جانب سے دیئے گئے یہ کارڈ اگست تک استعمال کئے جائیں گے۔
ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے ان کارڈز کے اجراء کے بعد کھلاڑی ریسٹورنٹس اور شاپنگ کے لئے انہی کارڈز کو استعمال کررہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جدید نظام کا مقصد کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے۔اس سے قبل ہر ٹیم کو کیش دیا جاتا تھا جس کے بعد کیش کھلاڑیوں کو منیجرز کے توسط سے تقسیم کئے جاتے تھے۔
آئی سی سی نے ورلڈ کپ کو کرپشن فری بنانے کے لئے ہر ٹیم کے ساتھ اینٹی کرپشن افسر کا تقرر کیا ہے اور مقامی پولیس کی مدد سے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے ساتھ ساتھ تماشائیوں اور مشکوک لوگوں پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔
کھلاڑی کہیں بھی جانے سے پہلے اپنی ٹیم کے سیکورٹی آفیسرکو بتاکر جاتے ہیں۔




