پاکستان کی بقا کیلئے دہشتگردوں کیطرح ڈیم مخالفین کے خلاف آپریشن 


محمد عارف شاہین
اسلام آباد ۔۔۔بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا آغاز کر دیا ہے جس کے بعد دریائے چناب سے نکلنے والی مرالہ راوی لنک نہر بند ہوگئی ہے جس کے باعث پنجاب کے کئی علاقوں میں پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے ۔ دوسری طرف کالا باغ ڈیم نہ بناے جانے سے دریائے سندھ کا لاکھوں کیوسک پانی سمندر ضائع ہو جاتا ہے۔اور بھارت دریائے سندھ کا رخ موڑنے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے۔جس سے نا صرف پاکستان کی زراعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا بلکہ زیر زمین پانی بھی کم ہو جائے گا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت مین پانی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان میں بہنے والے تمام دریا بھارت کے راستے پاکستان میں آتے ہیں۔ بھارت نے ہمیشہ ہی اپنی بری نظر پاکستان کے کے پانیوں پر رکھی ہے۔اس سلسلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے معاملات پر ہمیشہ ہی تنازعات رہے ہیں۔ ان کے حل کیلئے سندھ طاس معاہدہ بھی کیا گیا تھا جس کے تحت تین دریاؤں پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا اور تین پر پاکستان کا حق مانا گیا ۔ پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں میں سب سے بڑا دریا دریائے سندہ ہے جو پاکستان کے تقریبا تمام علاقں کو سیراب کرتا ہے ۔ جس پر حکومت نے کالا باغ ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ مگر بھارتی دہشت گرد ایجنسی راء نے اس کو رکوانے کے لئے پاکستان مین موجود اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اس کو متنازعہ بنایا ۔ ہمارے کئی چوٹی کے سیاستان بھی اس مشن میں ان کا آلہء کار بنے ہوئے ہیں۔ اور کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی کالا باغ ڈیم متنازعہ ہے۔جس کو بنانے کیلئے کسی بھی حکومت کو سیاست سے بالا تر ہو کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ سابق صدر مشرف کے دور میں اس کے لئے اواز اٹھائی گئی مگر وہ بھی سیاستدانوں نے نہ بننے دیا اور اس کے برعکس دیامیر بھاشا ڈیم کا کام شروع کروایا گیا مگر بعد مین آنے والے سیاسی ھکمرانوں نے اس کو بھی سست روطی کا شکار کر دیا۔بھارت مین انتہا پسند دہشت گرد مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان کے خلاف آبی جارحیت بڑھتی جا رہی ہے۔اس معاملے میں سابق انڈس واٹر کمشنر جماعت علی شاہ نے بھی بھار کا بہت حد تک ساتھ دیا ہے ۔ جو پاکستان کے مفاد کے خلاف معاہدے کر کے پاکستان سے بھاگ گیا ہے۔حالیہ اطلاعات کے مطابق بھارت نے سنھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے چناب کا پانی بند کر دیا ہے۔جس کے باعث اطلاعات ہیں کہ مرالہ راوی لنک نہر بند ہوگئی ہے۔ نہر کی بندش کے باعثوسطی پنجاب کی لاکھوں ایکڑ زمین کے لئے پانی کی قلت شروع ہو جائے گی۔فی ال حال تو کسان اس قلت کو پورا کنے کے لئے ٹیوب ویک کا سہارا لے رہے ہیں مگر دریا میں پانی نہ آنے کی وجہ سے زیر زمین پانی بھی ایک خاص مدت کے بعد ختم ہو جائے گا۔جس کے باعث اس ن علاقوں کی زراعت تباہ ہو جائیں گی۔اور پاکستان کی معیشت دھڑام سے گر جائے گی۔ جب زراعت سے را میٹیریل نہیں ملے کا تو صنعتیں بھی ختم ہو جائیں گی۔اس وقت پاکستان کی بقا کے لئے جہان دہست گردوں کا قلع قمع ضروری ہے وہیں ۔ پاکستان میں ڈیموں کے مخالفیں کے خلاف بھی آپریشن کی ضروت ہے کیونکہ یہ پاکستان کی بقا کا سوال ہے۔